مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَيْفَ يَضَعُ اليَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ؟)
نماز میں ہاتھ کس طرح باندھنے چاہئیں؟
حدیث نمبر: 797
797 - وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ، ثُمَّ رَفَعَهُمَا وَكَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ:"سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ، سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز شروع کی تو ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہا، پھر اپنا کپڑا لپیٹ لیا، پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا، جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے، رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا، پھر رکوع کیا، جب ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہا تو رفع الیدین کیا، اور جب سجدہ کیا تو دونوں ہاتھوں کے درمیان سجدہ کیا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 797]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (54/ 401)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح