صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ:
باب: جب شوہر اپنی بیوی کے پاس آئے تو اسے کون سی دعا پڑھنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 5165
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ حِينَ يَأْتِي أَهْلَهُ: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ أَوْ قُضِيَ وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
ہم سے سعد بن حفص طلحی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس ہمبستری کے لیے جب آئے تو یہ دعا پڑھے «باسم الله، اللهم جنبني الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا» یعنی میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ! شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھ جو (اولاد) ہمیں تو عطا کرے۔ پھر اس عرصہ میں ان کے لیے کوئی اولاد نصیب ہو تو اسے شیطان کبھی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5165]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی انسان اپنی بیوی سے ہم بستری کرے تو یہ دعا پڑھے: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو تو ہمیں عطا کرے،“ پھر اگر اس موقع پر ان کے لیے بچہ مقدر ہو یا اس کا فیصلہ ہو جائے تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة