🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. بَابُ حُسْنِ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ الأَهْلِ:
باب: اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5189
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" جَلَسَ إِحْدَى عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَكْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا، قَالَتِ الْأُولَى: زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَى رَأْسِ جَبَلٍ لَا سَهْلٍ فَيُرْتَقَى وَلَا سَمِينٍ فَيُنْتَقَلُ، قَالَتِ الثَّانِيَةُ: زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْكُرْهُ أَذْكُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ، قَالَتِ الثَّالِثَةُ: زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْكُتْ أُعَلَّقْ، قَالَتِ الرَّابِعَةُ: زَوْجِي كَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرٌّ وَلَا قُرٌّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ، قَالَتِ الْخَامِسَةُ: زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ، قَالَتِ السَّادِسَةُ: زَوْجِي إِنْ أَكَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنِ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْكَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ، قَالَتِ السَّابِعَةُ: زَوْجِي غَيَايَاءُ أَوْ عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ كُلُّ دَاءٍ لَهُ دَاءٌ شَجَّكِ أَوْ فَلَّكِ أَوْ جَمَعَ كُلًّا لَكِ، قَالَتِ الثَّامِنَةُ: زَوْجِي الْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ وَالرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ، قَالَتِ التَّاسِعَةُ: زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنَ النَّادِ، قَالَتِ الْعَاشِرَةُ: زَوْجِي مَالِكٌ وَمَا مَالِكٌ مَالِكٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكِ لَهُ إِبِلٌ كَثِيرَاتُ الْمَبَارِكِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَإِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِكُ، قَالَتِ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ: زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ وَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجِحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ، فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُكُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ كَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْءُ كِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا كَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَكَحَهَا، فَنَكَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَكِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا، وَقَالَ: كُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَكِ، قَالَتْ: فَلَوْ جَمَعْتُ كُلَّ شَيْءٍ أَعْطَانِيهِ مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ: عَنْ هِشَامٍ، وَلَا تُعَشِّشُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَأَتَقَمَّحُ بِالْمِيمِ وَهَذَا أَصَحُّ.
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور علی بن حجر نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، اس نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے کہا کہ گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا جس میں انہوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ مجلس میں وہ اپنے اپنے خاوند کا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپاویں۔ چنانچہ پہلی عورت (نام نامعلوم) بولی میرے خاوند کی مثال ایسی ہے جیسے دبلے اونٹ کا گوشت جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو نہ تو وہاں تک جانے کا راستہ صاف ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اس کو کوئی لے آوے اور نہ وہ گوشت ہی ایسا موٹا تازہ ہے جسے لانے کے لیے اس پہاڑ پر چڑھنے کی تکلیف گوارا کرے۔ دوسری عورت (عمرہ بنت عمرو تمیمی نامی) کہنے لگی میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک بیان کروں (اس میں اتنے عیب ہیں) میں ڈرتی ہوں کہ سب بیان نہ کر سکوں گی اس پر بھی اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے سارے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری عورت (حیی بنت کعب یمانی) کہنے لگی، میرا خاوند کیا ہے ایک تاڑ کا تاڑ (لمبا تڑنگا) ہے اگر اس کے عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اگر خاموش رہوں تو ادھر لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت (مہدو بنت ابی ہرومہ) کہنے لگی کہ میرا خاوند ملک تہامہ کی رات کی طرح معتدل نہ زیادہ گرم نہ بہت ٹھنڈا نہ اس سے مجھ کو خوف ہے نہ اکتاہٹ ہے۔ پانچوں عورت (کبشہ نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند ایسا ہے کہ گھر میں آتا ہے تو وہ ایک چیتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر (بہادر) کی طرح ہے۔ جو چیز گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے اس کے بارے میں پوچھتا ہی نہیں (کہ وہ کہاں گئی؟) اتنا بےپرواہ ہے جو آج کمایا اسے کل کے لیے اٹھا کر رکھتا ہی نہیں اتنا سخی ہے۔ چھٹی عورت (ہند نامی) کہنے لگی کہ میرا خاوند جب کھانے پر آتا ہے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے پر آتا ہے تو ایک بوند بھی باقی نہیں چھوڑتا اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے اور الگ پڑ کر سو جاتا ہے میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ بھی نہیں ڈالتا کہ کبھی میرا دکھ درد کچھ تو معلوم کرے۔ ساتویں عورت (حیی بنت علقمہ) میرا خاوند تو جاہل یا مست ہے۔ صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے عیب لوگوں میں ایک ایک کر کے جمع ہیں وہ سب اس کی ذات میں جمع ہیں (کم بخت سے بات کروں تو) سر پھوڑ ڈالے یا ہاتھ توڑ ڈالے یا دونوں کام کر ڈالے۔ آٹھویں عورت (یاسر بنت اوس) کہنے لگی میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں سونگھو تو زعفران جیسا خوشبودار ہے۔ نویں عورت (نام نامعلوم) کہنے لگی کہ میرے خاوند کا گھر بہت اونچا اور بلند ہے وہ قدآور بہادر ہے، اس کے یہاں کھانا اس قدر پکتا ہے کہ راکھ کے ڈھیر کے ڈھیر جمع ہیں۔ (غریبوں کو خوب کھلاتا ہے) لوگ جہاں صلاح و مشورہ کے لیے بیٹھتے ہیں (یعنی پنچائت گھر) وہاں سے اس کا گھر بہت نزدیک ہے۔ دسویں عورت (کبشہ بنت رافع) کہنے لگی میرے خاوند کا کیا پوچھنا جائیداد والا ہے، جائیداد بھی کیسی بڑی جائیداد ویسی کسی کے پاس نہیں ہو سکتی بہت سارے اونٹ جو جابجا اس کے گھر کے پاس جٹے رہتے ہیں اور جنگل میں چرنے کم جاتے ہیں۔ جہاں ان اونٹوں نے باجے کی آواز سنی بس ان کو اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو گیا۔ گیارھویں عورت (ام زرع بنت اکیمل بنت ساعدہ) کہنے لگی میرا خاوند ابوزرع ہے اس کا کیا کہنا اس نے میرے کانوں کو زیوروں سے بوجھل کر دیا ہے اور میرے دونوں بازو چربی سے پھلا دئیے ہیں مجھے خوب کھلا کر موٹا کر دیا ہے کہ میں بھی اپنے تئیں خوب موٹی سمجھنے لگی ہوں۔ شادی سے پہلے میں تھوڑی سے بھیڑ بکریوں میں تنگی سے گزر بسر کرتی تھی۔ ابوزرعہ نے مجھ کو گھوڑوں، اونٹوں، کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا ہے اتنی بہت جائیداد ملنے پر بھی اس کا مزاج اتنا عمدہ ہے کہ بات کہوں تو برا نہیں مانتا مجھ کو کبھی برا نہیں کہتا۔ سوئی پڑی رہوں تو صبح تک مجھے کوئی نہیں جگاتا۔ پانی پیوں تو خوب سیراب ہو کر پی لوں رہی ابوزرعہ کی ماں (میری ساس) تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں۔ اس کا توشہ کھانا مال و اسباب سے بھرا ہوا، اس کا گھر بہت ہی کشادہ۔ ابوزرعہ کا بیٹا وہ بھی کیسا اچھا خوبصورت (نازک بدن دبلا پتلا) ہری چھالی یا ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ایسا کم خوراک کہ بکری کے چار ماہ کے بچے کا دست کا گوشت اس کا پیٹ بھر دے۔ ابوزرعہ کی بیٹی وہ بھی سبحان اللہ کیا کہنا اپنے باپ کی پیاری، اپنی ماں کی پیاری (تابع فرمان اطاعت گزار) کپڑا بھر پور پہننے والی (موٹی تازی) سوکن کی جلن۔ ابوزرعہ کی لونڈی اس کی بھی کیا پوچھتے ہو کبھی کوئی بات ہماری مشہور نہیں کرتی (گھر کا بھید ہمیشہ پوشیدہ رکھتی ہے) کھانے تک نہیں چراتی گھر میں کوڑا کچڑا نہیں چھوڑتی مگر ایک دن ایسا ہوا کہ لوگ مکھن نکالنے کو دودھ متھ رہے تھے۔ (صبح ہی صبح) ابوزرعہ باہر گیا اچانک اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح اس کی کمر کے تلے دو اناروں سے کھیل رہے تھے (مراد اس کی دونوں چھاتیاں ہیں جو انار کی طرح تھیں)۔ ابوزرعہ نے مجھ کو طلاق دے کر اس عورت سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک اور شریف سردار سے نکاح کر لیا جو گھوڑے کا اچھا سوار، عمدہ نیزہ باز ہے، اس نے بھی مجھ کو بہت سے جانور دے دئیے ہیں اور ہر قسم کے اسباب میں سے ایک ایک جوڑا دیا ہوا ہے اور مجھ سے کہا کرتا ہے کہ ام زرع! خوب کھا پی، اپنے عزیز و اقرباء کو بھی خوب کھلا پلا تیرے لیے عام اجازت ہے مگر یہ سب کچھ بھی جو میں نے تجھ کو دیا ہوا ہے اگر اکٹھا کروں تو تیرے پہلے خاوند ابوزرعہ نے جو تجھ کو دیا تھا، اس میں کا ایک چھوٹا برتن بھی نہ بھرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5189]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گیارہ عورتوں کا ایک اجتماع ہوا، انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ اپنے شوہروں کے متعلق کوئی چیز مخفی نہ رکھیں گی، چنانچہ پہلی نے کہا: میرا شوہر ایک دبلے اونٹ کا گوشت ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہوا ہو، نہ تو وہاں جانے کا راستہ ہموار ہے کہ آسانی سے چڑھ کر اسے لایا جائے اور نہ وہ گوشت ایسا عمدہ ہے کہ اسے ضرور لایا جائے۔ دوسری نے کہا: میں اپنے خاوند کا حال بیان کروں تو کہاں تک کروں! میں ڈرتی ہوں کہ سب کچھ بیان نہ کر سکوں گی، اس کے باوجود اگر بیان کروں تو اس کے کھلے اور چھپے عیب بیان کر سکتی ہوں۔ تیسری نے کہا: میرا شوہر دراز قد کمزور ہے، اگر عیب بیان کروں تو طلاق تیار ہے اور اگر خاموش رہوں تو معلق رہوں گی۔ چوتھی نے کہا: میرا خاوند شبِ تہامہ کی طرح معتدل ہے، نہ گرم اور نہ ٹھنڈا۔ اس سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے اور نہ اکتاہٹ کا اندیشہ۔ پانچویں نے کہا: میرا شوہر اگر گھر میں آئے تو چیتے کی طرح ہے اور اگر باہر جائے تو مثلِ شیر ہے، گھر میں جو چیز چھوڑ جاتا ہے اس کے متعلق باز پرس نہیں کرتا۔ چھٹی نے کہا: میرا شوہر اگر کھانا شروع کرے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور جب پینے لگتا ہے تو ایک بوند بھی نہیں چھوڑتا، اور جب لیٹتا ہے تو تنہا ہی اپنے اوپر کپڑا لپیٹ لیتا ہے، میرے کپڑے میں بھی ہاتھ نہیں ڈالتا کہ میرا دکھ درد معلوم کرے۔ ساتویں نے کہا: میرا خاوند جاہل یا مست ہے، صحبت کے وقت اپنا سینہ میرے سینے سے لگا کر اوندھا پڑ جاتا ہے۔ دنیا کی ہر بیماری اس میں موجود ہے۔ اگر تو بات کرے تو سر پھوڑ دے یا جسم زخمی کر دے یا دونوں ہی کر گزرے۔ آٹھویں نے کہا: میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے۔ اس کی خوشبو زعفران کی خوشبو ہے۔ نویں نے کہا: میرا خاوند اونچے گھر والا، اس کا شمشیر بند بڑا دراز، بہت راکھ والا اور اس کا گھر محفل خانے کے قریب ہے۔ دسویں نے کہا: میرا خاوند مالک ہے اور مالک کے کیا ہی کہنے! اس سے بہتر کوئی نہیں دیکھا گیا۔ اس کے اونٹ باڑوں میں رہنے والے زیادہ ہیں اور چراگاہوں میں جانے والے بہت کم ہیں۔ جب وہ باجے کی آواز سنتے ہیں تو انہیں اپنے ذبح ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ گیارھویں نے کہا: میرا شوہر ابو زرع ہے۔ ابو زرع کے کیا کہنے! اس نے زیورات سے میرے کان بھر دیے، مجھے کھلا کھلا کر میرے دونوں بازو چربی سے بھر دیے، مجھے اس نے ایسا خوش و خرم رکھا کہ میں خود پسندی اور عجب میں مبتلا ہوں۔ مجھے اس نے ایک ایسے (غریب) گھرانے میں پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزارا کرتے تھے، وہاں سے مجھے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا کہ مجھے گھوڑوں، اونٹوں اور کھیت کھلیان سب کا مالک بنا دیا۔ وہ خوش اخلاق اس قدر ہے کہ میری کسی بات پر مجھے برا بھلا نہیں کہتا۔ اس کے ہاں میں جب سوتی ہوں تو صبح کر دیتی ہوں، جب میں پیتی ہوں تو خوب اطمینان سے سیراب ہو کر پیتی ہوں۔ ابو زرع کی ماں! تو میں اس کی کیا خوبیاں بیان کروں، اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھرپور رہتے ہیں، اس کا گھر بھی بہت وسیع ہے۔ ابو زرع کا بیٹا، وہ کیسی شان والا ہے! وہ چھریرے بدن والا، ننگی تلوار کے برابر اس کے سونے کی جگہ ہے، چھوٹی بکری کے ایک بچے کی دستی سے اس کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے۔ ابو زرع کی بیٹی، اس کے کیا کہنے! وہ اپنے باپ کی فرمانبردار، ماں کی اطاعت گزار، موٹی تازی بھرپور کپڑے زیب تن کرنے والی کہ سوکن کے لیے جلن کا باعث ہے۔ ابو زرع کی لونڈی! وہ بھی بہت شان و شوکت والی ہے، گھر کی بات باہر جا کر نہیں کرتی، کھانے تک کی چیز بلا اجازت نہیں لیتی اور ہمارا گھر خس و خاشاک سے نہیں بھرتی۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ابو زرع باہر گیا جبکہ دودھ سے برتن بھرے ہوئے تھے اور ان سے مکھن نکالا جا رہا تھا، اس دوران میں اس نے ایک عورت دیکھی جس کے دو بچے چیتوں کی طرح تھے اور اس کی کمر کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے۔ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے کر اس سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد میں نے ایک دوسرے شریف مالدار سے نکاح کیا جو عربی گھوڑے پر سواری کرتا اور ہاتھ میں نیزہ پکڑتا تھا۔ اس نے مجھے بہت سی نعمتیں اور ہر قسم کے جانور دیے، نیز مال و اسباب میں سے ہر قسم کا جوڑا جوڑا عطا کیا۔ اس نے یہ بھی کہا: اے ام زرع! تم خود بھی کھاؤ پیو اور اپنے عزیز و اقارب کو بھی خوب کھلاؤ پلاؤ۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی تمام عطاؤں کو جمع کروں تو ابو زرع کا چھوٹے سے چھوٹا برتن بھی نہ بھر سکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں بھی تیرے لیے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ام زرع کے لیے ابو زرع تھا۔ (ایک روایت کے مطابق راویِ حدیث) حضرت ہشام رحمہ اللہ نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: وہ لونڈی ہمارے گھر میں کوڑا کچرا جمع کر کے اسے میلا کچیلا نہیں کرتی۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: کچھ راویوں نے «فَتَنْفَحُ» کو نون کے بجائے میم کے ساتھ یعنی «فَانْقَمَحَ» پڑھا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5189]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5190
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے جسم مبارک سے) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5190]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حبشی لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چھپا لیا اور میں ان کے کرتب دیکھ رہی تھی۔ میں مسلسل محظوظ ہوتی رہی حتیٰ کہ خود ہی تھک کر لوٹ آئی۔ تم ایک نو خیز لڑکی کی رغبت کا اندازہ کرو جو دیر تک ان کا کھیل دیکھتی رہی اور ان کے نغمے سنتی رہی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5190]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں