مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ عَدَدِ صَلَاةِ الْوِتْرِ)
نماز وتر کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 1264
1264 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ، وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن ابی قیس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنی رکعتیں وتر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: چار اور تین (سات)، چھ اور تین (نو)، آٹھ اور تین (گیارہ) اور دس اور تین (تیرہ) رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات سے کم اور تیرہ سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھا کرتے تھے۔ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده صحيح، رواه أبو داود (1362) [و صححه ابن الملقن في تحفة المحتاج: 445] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح