مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فِي الْبَدْءِ كَانَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَالْحَضَرِ مُتَسَاوِيَةً)
شروع میں سفر اور حضر کی نماز برابر تھی
حدیث نمبر: 1348
1348 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا، وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى، قَالَ الزُّهْرِيُّ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ؟ قَالَ: تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، شروع میں نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کی تو دو سے چار رکعتیں فرض کر دی گئی۔ اور نماز سفر کو پہلی حالت فرضیت پر برقرار رکھا گیا۔ زہری ؒ بیان کرتے ہیں، میں نے عروہ ؒ سے کہا، عائشہ رضی اللہ عنہ کو کیا ہوا کہ وہ پوری پڑھتی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح تاویل کی ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (350) و مسلم (685/1)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه