صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. بَابُ ذَبِّ الرَّجُلِ عَنِ ابْنَتِهِ فِي الْغَيْرَةِ وَالإِنْصَافِ:
باب: آدمی اپنی بیٹی کو غیرت اور غصہ نہ آنے کے لیے اور اس کے حق میں انصاف کرنے کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5230
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ:" إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُوا فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ ثُمَّ لَا آذَنُ إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا"، هَكَذَا قَالَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر فرما رہے تھے کہ ہشام بن مغیرہ جو ابوجہل کا باپ تھا اس کی اولاد (حارث بن ہشام اور سلم بن ہشام) نے اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے لیکن میں انہیں ہرگز اجازت نہیں دوں گا یقیناً میں اس کی اجازت نہیں دوں گا ہرگز میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ البتہ اگر علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہیں (تو میں اس میں رکاوٹ نہیں بنوں گا) کیونکہ وہ (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے جگر کا ایک ٹکڑا ہے جو اس کو برا لگے وہ مجھ کو بھی برا لگتا ہے اور جس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5230]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہشام بن مغیرہ کے خاندان نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں، میں اجازت نہیں دیتا، پھر اجازت نہیں دیتا، ایک بار بھی اجازت نہیں دیتا۔ ہاں، اگر ابن ابی طالب کا پروگرام ہے تو میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کر لے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا تو میرا جگر گوشہ ہے، جو چیز اسے پریشان کرتی ہے وہ مجھے بھی کرتی ہے اور جو اس کے لیے تکلیف دہ ہے وہ میرے لیے بھی باعثِ اذیت ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة