🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (بَيَانُ مَا يَفْعَلُهُ الْإِنْسَانُ إِذَا لَمْ يُحِصِلِ الْقَرْبَانَ)
اس چیز کا بیان کہ آدمی اگر قربانی نہ پائے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1479
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1479 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ. قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى، أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: لَا. وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ، وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس امت کے لیے اضحی کے دن کو عید قرار دوں۔“ کسی آدمی نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں اگر میں دودھ دینے والی بکری، جو کہ مجھے کسی نے عطیہ کی ہے، کے سوا کوئی جانور نہ پاؤں تو کیا میں اسے ذبح کر دوں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم (عید کے روز) اپنے بال اور ناخن کٹاؤ، مونچھیں کتراؤ اور زیر ناف بال مونڈ لو، اللہ کے ہاں یہ تمہاری مکمل قربانی ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (2789، 1399) و النسائي (212/7. 213 ح 4370) [و صححه ابن حبان (1043) والحاکم (223/4) ووافقه الذهبي. ]
٭ عيسي بن ھلال: صدوق، و ثقه ابن حبان والحاکم وغيرھما و حديثه حسن.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں