صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ لِحَوَائِجِهِنَّ:
باب: عورتوں کا کام کاج کے لیے باہر نکلنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 5237
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلًا، فَرَآهَا عُمَرُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: إِنَّكِ وَاللَّهِ يَا سَوْدَةُ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ وَهُوَ فِي حُجْرَتِي يَتَعَشَّى وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَرُفِعَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: قَدْ أَذِنَ اللَّهُ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے۔ پھر کہا: اے سودہ، اللہ کی قسم! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں۔ جب سودہ رضی اللہ عنہا واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لیے باہر نکل سکتی ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5237]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا اور پہچان گئے، پھر کہا: ”اللہ کی قسم! اے سودہ! تو ہم سے چھپ نہیں سکتی ہو۔“ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کا ذکر کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے گھر شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں گوشت والی ایک ہڈی تھی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی کا آغاز ہوا۔ جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لیے باہر جا سکتی ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5237]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة