مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (خَبَرُ الْمَغْفِرَةِ إِذَا كَانَ فِي الجِنَازَةِ أَرْبَعُونَ مُسْلِمًا)
جنازے پر اگر چالیس مسلمان ہوں تو مغفرت کی خبر
حدیث نمبر: 1660
1660 - وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ مَاتَ لَهُ ابْنٌ بِقُدَيْدٍ أَوْ بِعُسْفَانَ فَقَالَ: يَا كُرَيْبُ، انْظُرْ مَا اجْتَمَعَ لَهُ مِنَ النَّاسِ. قَالَ: فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَاسٌ قَدِ اجْتَمَعُوا لَهُ، فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: تَقُولُ: هُمْ أَرْبَعُونَ. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَخْرِجُوهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا ، لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ فِيهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ قدید یا عسفان کے مقام پر ان کا بیٹا فوت ہو گیا۔ انہوں نے فرمایا: کریب! دیکھو، اس کے (جنازے) کے لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں، میں باہر آیا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے، میں نے آپ کو بتایا تو انہوں نے پوچھا: کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے لے چلو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو مسلمان فوت ہو جائے اور پھر چالیس موحد (جو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے) اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں تو اللہ اس شخص کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (948/59)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح