مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَضِيلَةُ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ وَخَوَاتِيمِ الْبَقَرَةِ)
سورۂ فاتحہ اور خواتیم بقرہ کی فضیلت
حدیث نمبر: 2124
2124 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:"هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ"فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ:"هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اس دوران کہ جبریل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے اپنے سر کے اوپر سے ایک زور دار آواز سنی، تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: یہ آسمان سے پہلی مرتبہ ایک دروازہ کھلا ہے اور اس سے ایک فرشتہ نازل ہوا ہے، جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ جو فرشتہ زمین کی طرف نازل ہوا ہے، اس سے پہلے کبھی نازل نہیں ہوا ہے، اس نے سلام عرض کیا اور کہا: آپ کو دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ہی کو عطا کیے گئے ہیں، آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے؛ سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری (تین) آیات، آپ (اور آپ کے متبعین) ان دونوں میں سے جو حرف (دعا) پڑھیں گے وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (806/254)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح