🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ مَنْ أَكَلَ حَتَّى شَبِعَ:
باب: پیٹ بھر کر کھانا کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5381
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ:" لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا، فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِطَعَامٍ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ: قُومُوا، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، مَا عِنْدَكِ؟ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا، فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ، فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ أَذِنَ لِعَشَرَةٍ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ ثَمَانُونَ رَجُلًا".
ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں ضعف و نقاہت کو محسوس کیا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ فاقہ سے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ نکالا اور اس کے ایک حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے (یعنی انس رضی اللہ عنہ کے) کپڑے کے نیچے چھپا دیا اور ایک حصہ مجھے چادر کی طرح اوڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ بیان کیا کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ صحابہ تھے۔ میں ان سب حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے انس! تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہو گا۔ میں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کھانے کے ساتھ؟ میں نے عرض کی، جی ہاں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ آپ روانہ ہوئے۔ میں سب کے آگے آگے چلتا رہا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچا تو انہوں نے کہا: ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لائے ہیں، حالانکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا سامان نہیں جو سب کو کافی ہو سکے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا اس پر بولیں کہ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (استقبال کے لیے) نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ اس کے بعد ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور گھر میں داخل ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ یہاں لاؤ۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا روٹی لائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا چورا کر لیا گیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اپنے گھی کے ڈبہ میں سے گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دعا کرانی چاہی، اس کے بعد فرمایا کہ ان دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ کو بلایا۔ سب نے کھایا اور شکم سیر ہو کر باہر چلے گئے۔ پھر فرمایا کہ دس کو اور بلا لو، انہیں بلایا گیا اور سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ دس صحابہ کو اور بلا لو، پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اور ان لوگوں نے بھی خوب پیٹ بھر کر کھایا اور باہر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد پھر دس صحابہ کو بلایا گیا اس طرح تمام صحابہ نے پیٹ بھر کر کھایا، اس وقت اسی (80) صحابہ کی جماعت وہاں موجود تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5381]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میں نقاہت محسوس کرتا ہوں، معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فاقے سے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ چنانچہ انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ لیا اور اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹ دیں، پھر اسے میرے کپڑے کے نیچے میری بغل میں چھپا دیا اور اس کا کچھ حصہ (چادر کی طرح) مجھے اوڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ جب میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ میں ان حضرات کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانے کے لیے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب ساتھیوں سے فرمایا: اٹھو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور میں ان کے آگے چلنے لگا۔ جب میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت تشریف لا رہے ہیں، جبکہ ہمارے پاس کھانے کا اتنا انتظام نہیں جو سب کو کافی ہو سکے۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ استقبال کے لیے نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔ آخر کار ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے گھر میں داخل ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ۔ چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کا چورا کر لیا گیا۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے گھی کے ڈبے سے اس پر گھی نچوڑ کر اس کا ملیدہ بنا لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی توفیق سے اس پر جو پڑھنا تھا پڑھا، اس کے بعد فرمایا: دس دس آدمیوں کو کھانے کے لیے بلاؤ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اجازت دی گئی، وہ آئے اور شکم سیر ہو کر کھایا اور واپس چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس اور بلاؤ۔ وہ آئے اور شکم سیر ہو کر کھایا اور باہر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے بھی سیر ہو کر کھایا اور واپس چلے گئے۔ پھر دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایا، اس طرح تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پیٹ بھر کر کھایا۔ اس وقت اسی (80) کی تعداد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5382
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَحَدَّثَ أَبُو عُثْمَانَ أَيْضًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ، أَوْ قَالَ: هِبَةٌ، قَالَ: لَا، بَلْ بَيْعٌ، قَالَ: فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ يُشْوَى وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَهَا لَهُ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا قَصْعَتَيْنِ، فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابوعثمان نہدی نے بھی بیان کیا اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے۔ ایک صاحب نے اپنے پاس سے ایک صاع کے قریب آٹا نکالا، اسے گوندھ لیا گیا، پھر ایک مشرک لمبا تڑنگا اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ بیچنے کی ہیں یا عطیہ ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عطیہ کے بجائے) ہبہ فرمایا۔ اس شخص نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کی ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی پھر ذبح کی گئی اور آپ نے اس کی کلیجی بھونے جانے کا حکم دیا اور قسم اللہ کی ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں کوئی شخص ایسا نہیں رہا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کی کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو مگر وہ موجود تھا تو اسے وہیں دے دیا اور اگر وہ موجود نہیں تھا تو اس کا حصہ محفوظ رکھا، پھر اس بکری کے گوشت کو پکا کر دو بڑے کونڈوں میں رکھا اور ہم سب نے ان میں سے پیٹ بھر کر کھایا پھر بھی دونوں کونڈوں میں کھانا بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر لاد لیا۔ عبدالرحمٰن راوی نے ایسا ہی کوئی کلمہ کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5382]
حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس کھانا ہے؟ اچانک ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا اس کے لگ بھگ آٹا تھا جسے گوندھ لیا گیا۔ اس دوران میں ایک دراز قد مشرک جس کے بال پراگندہ تھے اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آنکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو فروخت کرتا ہے یا عطیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا: عطیہ نہیں بلکہ فروخت کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی۔ اسے ذبح کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو۔ جو وہاں موجود تھا اسے تو وہیں دے دیا گیا اور اگر وہ موجود نہ تھا تو اس کا حصہ محفوظ کر لیا گیا۔ پھر اس بکری کے گوشت کو پکا کر دو بڑے کونڈوں میں رکھا اور ہم سب نے اس میں سے پیٹ بھر کر کھایا، اس کے باوجود کونڈوں میں گوشت بچ گیا تو میں نے اسے اونٹ پر لاد لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5382]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5383
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم قصاب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ (صفیہ بن شبیہ) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، ان دنوں ہم پانی اور کھجور سے سیر ہو جانے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5383]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو ان دنوں ہم کھجور اور پانی سے شکم سیر ہونے لگے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5383]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں