مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءُ الصَّبَاحِ وَالمَسَاءِ)
صبح و شام کی دعا
حدیث نمبر: 2392
2392 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى (أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَمِنْ سُوءِ الْكِبَرِ، أَوِ الْكُفْرِ) وَفِي رِوَايَةٍ (مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكِبْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ) رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَفِي رِوَايَتِهِ لَمْ يَذْكُرْ مِنْ سُوءِ الْكُفْرِ.
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَسُوءِ الْكِبَرِ، أَوْ سُوءِ الْكُفْرِ» ”ہم نے اور اللہ کے ملک نے شام کی، ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، میرے رب! میں اس رات کی بہتری اور اس کے بعد آنے والی راتوں کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اور اس رات کے شر سے اور اس کے بعد آنے والی راتوں کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میرے رب! میں کاہلی، بڑھاپے کی خرابی یا کفر کی خرابی سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ ایک اور دوسری روایت میں ہے: «مِنْ سُوءِ الْكِبَرِ وَالْكُبْرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ» ”میں بڑھاپے اور تکبر کی خرابی سے، میرے رب! میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کرتے تو بھی ایسے ہی دعا کرتے تھے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ» ”ہم نے اور اللہ کے ملک نے صبح کی“۔ ابوداؤد، ترمذی۔ اور ان کی روایت میں: ”کفر کی خرابی سے“ کے الفاظ مذکور نہیں۔ صحیح، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2392]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (5071) و الترمذي (3390 وقال: حسن صحيح) [و مسلم 2723/74] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح