صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ الْحَيْسِ:
باب: حیس کا بیان۔
حدیث نمبر: 5425
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ:" الْتَمِسْ غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ، فَلَمْ أَزَلْ أَخْدُمُهُ حَتَّى أَقْبَلْنَا مِنْ خَيْبَرَ وَأَقْبَلَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَدْ حَازَهَا، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ أَوْ بِكِسَاءٍ ثُمَّ يُرْدِفُهَا وَرَاءَهُ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالًا، فَأَكَلُوا وَكَانَ ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، جب بھی آپ کہیں پڑاؤ کرتے خدمت کرتا۔ میں سنا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والبخل والجبن وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“ (انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا۔ آخر جب مقام صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس (کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ) بنایا پھر مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوت ولیمہ تھی۔ پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا کہ اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا۔ اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما۔ ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5425]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم اپنے یہاں کے بچوں میں سے کوئی بچہ تلاش کر لاؤ میرے کام کر دیا کرے۔“ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر نکلے اور اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کہیں پڑاؤ کرتے تو میں آپ کی خدمت کرتا۔ میں آپ کو بکثرت یہ دعا پڑھتے سنتا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیرے ذریعے سے غم و اندوہ، عجز و سستی، بخل، بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے پناہ چاہتا ہوں۔“ میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا حتیٰ کہ ہم خیبر سے واپس آئے۔ حضرت صفیہ بنت حیّی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کمبل یا چادر کا پردہ کیا پھر ان کو وہاں بٹھایا۔ آ کر جب ہم مقام صہباء پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان پر حیس تیار کرایا، پھر مجھے بھیجا تو میں نے لوگوں کو بلایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی دعوتِ ولیمہ تھی، پھر آپ روانہ ہوئے، جب احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا۔ اے اللہ! مدینہ والوں کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة