مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءٌ جَمِيلٌ)
ایک اچھی دعا
حدیث نمبر: 2492
2492 - (وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتَّى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهِ اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيْبَاتِ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اوقات کسی مجلس سے اٹھنے سے پہلے ان کلمات کے ذریعے اپنے صحابہ کے لیے دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا، وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا، وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا، وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا، وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا، وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا، وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا، وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا» ”اے اللہ! ہمیں اپنی خشیت سے ایسا حصہ عطا فرما جو ہمارے اور تیری معاصی و نافرمانی کے درمیان حائل ہو جائے، اور اپنی اطاعت سے ایسا حصہ عطا فرما جس کے ذریعے تو ہمیں اپنی جنت میں پہنچا دے، اور یقین سے ایسا حصہ نصیب فرما جو دنیا کے مصائب ہم پر آسان کر دے، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے، ہمارے کانوں، ہماری آنکھوں اور ہماری قوت سے بہرہ مند فرما، اور ان (مذکورہ چیزوں) کو (ہمارے مرنے تک) باقی رکھنا، جو شخص ہم پر ظلم کرے اس پر ہمارا غضب (انتقام) نازل فرما، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے خلاف ہماری مدد فرما، ہمارے دین (میں کمی) کے بارے میں ہم پر کوئی مصیبت نازل نہ فرما، دنیا کو ہمارا سب سے بڑا مقصد نہ بنا اور نہ اسے ہمارے علم کی غایت و انتہا بنا، اور ہم پر کسی ایسے کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے۔“ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3502) [و صححه الحاکم (528/1) ووافقه الذهبي وسنده ضعيف]
٭ عبيد الله بن زحر ضعيف .»
٭ عبيد الله بن زحر ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف