صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ الرُّطَبِ وَالتَّمْرِ:
باب: تازہ کھجور اور خشک کھجور کے بیان میں۔
حدیث نمبر: Q5442
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا سورة مريم آية 25.
اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ مریم میں) مریم علیہا السلام کو خطاب «وهزي إليك بجذع النخلة تساقط عليك رطبا جنيا» ”اور اپنی طرف کھجور کی شاخ کو ہلا تو تم پر تازہ تر کھجور گریں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: Q5442]
حدیث نمبر: 5442
وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ: عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ"
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور ابن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے (اکثر دنوں میں) پیٹ بھرتے رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5442]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم کھجور اور پانی ہی سے پیٹ بھرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5442]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5443
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيٌّ وَكَانَ يُسْلِفُنِي فِي تَمْرِي إِلَى الْجِدَادِ وَكَانَتْ لِجَابِرٍ الْأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةَ، فَجَلَسَتْ فَخَلَا عَامًا، فَجَاءَنِي الْيَهُودِيُّ عِنْدَ الْجَدَادِ وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ، فَيَأْبَى فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ الْيَهُودِيِّ، فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ الْيَهُودِيَّ، فَيَقُولُ أَبَا الْقَاسِمِ: لَا أُنْظِرُهُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَى فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: افْرُشْ لِي فِيهِ، فَفَرَشْتُهُ فَدَخَلَ فَرَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ فَأَبَى عَلَيْهِ فَقَامَ فِي الرِّطَابِ فِي النَّخْلِ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَالَ: يَا جَابِرُ، جُدَّ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي الْجَدَادِ فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ وَفَضَلَ مِنْهُ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشَّرْتُهُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ". وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَعْرُوشَاتٍ مَا يُعَرَّشُ مِنَ الْكُرُومِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، يُقَالُ: عُرُوشُهَا أَبْنِيَتُهَا.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (سورۃ الانعام میں لفظ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت (سورۃ البقرہ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5443]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی تھا جو کھجوروں کی تیاری تک قرض دیا کرتا تھا۔ رومہ کے راستے میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی زمین تھی، ایک سال کھجور کے باغات پھل نہ لائے۔ کھجوریں توڑنے کے موسم میں یہودی میرے پاس آیا جبکہ میں نے کھجوروں سے کچھ نہ توڑا تھا، چنانچہ میں نے اس سے دوسرے سال تک مہلت طلب کی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں کے باغ میں میرے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگا: ”اے ابوالقاسم! میں اسے مزید مہلت نہیں دوں گا۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت حال کو دیکھا تو وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور باغ کا چکر لگایا، پھر یہودی کے پاس آ کر اس سے بات چیت کی تو اس نے پھر انکار کر دیا۔ اس دوران میں اٹھا اور تھوڑی سی تازہ کھجوریں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تناول فرمایا، اس کے بعد مجھے کہنے لگے: ”اے جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟“ میں نے اس کی نشاندہی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں میرے لیے ایک بستر بچھا دو۔“ میں نے وہاں ایک بستر لگا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں گئے اور محوِ استراحت ہوئے، جب بیدار ہوئے تو میں نے پھر مٹھی بھر کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کچھ کھائیں، پھر کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو کی، لیکن اس نے پھر انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ تازہ کھجوروں کے باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا: ”اے جابر! ان کو خوشوں سے الگ کر کے اپنا قرض ادا کرو۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جس سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کچھ کھجوریں بچ گئیں۔ پھر میں وہاں سے روانہ ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ بشارت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔“ (امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:) ” «الْعَرْشُ» اور «الْعَرِيشُ» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں،“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ” «مَعْرُوشَاتٍ» سے مراد انگور وغیرہ کی چھتیں ہیں، اور «عُرُوشِهَا» سے مراد بھی چھتیں ہیں۔“ محمد بن اسماعیل (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”اس حدیث میں «فَخْلًا» کا لفظ میرے نزدیک محفوظ نہیں بلکہ میرے نزدیک «أَشْبَهُ» (زیادہ صحیح) یہ لفظ «نَخْلًا» ہے یعنی وہ باغ ایک سال کھجوروں کا پھل لانے سے بیٹھ گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5443]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة