صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ الْمَضْمَضَةِ بَعْدَ الطَّعَامِ:
باب: کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5454
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلْنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے بشیر بن یسار سے، ان سے سوید بن نعمان نے، کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، ہم نے بھی کلی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5454]
حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے، جب ہم مقام صہباء پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا۔ کھانے میں ستو کے علاوہ اور کوئی چیز دستیاب نہ ہوسکی۔ ہم نے بھی وہی کھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے صرف کلی کی تو ہم نے بھی آپ کے ہمراہ کلی کی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5454]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5455
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ بُشَيْرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ،" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، قَالَ يَحْيَى: وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ فَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَقَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى.
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ ہم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور کلّی (غرارے) کی، اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کلّی (غرارے) کی، پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5455]
یحییٰ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے بشیر سے سنا، ان سے حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے۔ جب ہم صہباء پہنچے۔۔۔“ یحییٰ نے کہا: ”یہ خیبر سے ایک منزل دور واقع ہے۔۔۔“ ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ستو پیش کیے گئے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھائے) اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منگوایا اور کلی کی۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ مغرب پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔“ سفیان نے کہا: ”گویا تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5455]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة