🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى الصَّيْدِ:
باب: شکار پر بسم اللہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q5475
وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّيْدِ} إِلَى قَوْلِهِ: {عَذَابٌ أَلِيمٌ}. وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ} وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْعُقُودُ الْعُهُودُ، مَا أُحِلَّ وَحُرِّمَ {إِلاَّ مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ} الْخِنْزِيرُ. {يَجْرِمَنَّكُمْ} يَحْمِلَنَّكُمْ {شَنَآنُ} عَدَاوَةُ {الْمُنْخَنِقَةُ} تُخْنَقُ فَتَمُوتُ {الْمَوْقُوذَةُ} تُضْرَبُ بِالْخَشَبِ يُوقِذُهَا فَتَمُوتُ {وَالْمُتَرَدِّيَةُ} تَتَرَدَّى مِنَ الْجَبَلِ {وَالنَّطِيحَةُ} تُنْطَحُ الشَّاةُ، فَمَا أَدْرَكْتَهُ يَتَحَرَّكُ بِذَنَبِهِ أَوْ بِعَيْنِهِ فَاذْبَحْ وَكُلْ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان پس تم اعتراض کرنے والے کافروں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ اور اللہ تعالیٰ کا اسی سورۃ المائدہ میں فرمان کہ اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں کچھ شکار دکھلا کر آزمائے گا جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے۔ الآیۃ اور اللہ تعالیٰ کا اسی سورۃ المائدہ میں فرمان کہ تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال کئے گئے سوا ان کے جن کا ذکر تم سے کیا جاتا ہے (مردار اور سور وغیرہ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ پس تم (ان کافروں) سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «العقود» سے مراد حلال و حرام سے متعلق عہد و پیمان۔ «إلا ما يتلى عليكم‏» سے سور، مردار، خون وغیرہ مراد ہے۔ «يجرمنكم‏» باعث بنے۔ «شنآن‏» کے معنی عداوت دشمنی۔ «المنخنقة‏» جس جانور کا گلا گھونٹ کر مار دیا گیا ہو اور اس سے وہ مر گیا ہو۔ «الموقوذة‏» جسے لکڑی یا پتھر سے مارا جائے اور اس سے وہ مر جائے۔ «المتردية‏» جو پہاڑ سے پھسل کر گر پڑے اور مر جائے۔ «النطيحة‏» جس کو کسی جانور نے سینگ سے مار دیا ہو۔ پس اگر تم اسے دم ہلاتے ہوئے یا آنکھ گھماتے ہوئے پاؤ تو ذبح کر کے کھا لو کیونکہ یہ اس کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: Q5475]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5475
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ قَالَ:" مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ"، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَ الْكَلْبِ ذَكَاةٌ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ أَوْ كِلَابِكَ كَلْبًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پر کے تیر یا لکڑی یا گز سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس کی نوک شکار کو لگ جائے تو کھا لو لیکن اگر اس کی عرض کی طرف سے شکار کو لگے تو وہ نہ کھاؤ کیونکہ وہ «موقوذة‏» ہے اور میں نے آپ سے کتے کے شکار کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ جسے وہ تمہارے لیے رکھے (یعنی وہ خود نہ کھائے) اسے کھا لو کیونکہ کتے کا شکار کو پکڑ لینا یہ بھی ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے یا کتوں کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے نے شکار اس دوسرے کے ساتھ پکڑا ہو گا اور کتا شکار کو مار چکا ہو تو ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام (بسم اللہ پڑھ کر) اپنے کتے پر لیا تھا دوسرے کتے پر نہیں لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5475]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نوکدار لکڑی سے کیے ہوئے شکار کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر شکار اس کی نوک سے زخمی ہو جائے تو اسے کھا لو، لیکن اگر «عَرْض» (چوڑائی) کے بل اسے لگے تو اسے نہ کھاؤ کیونکہ یہ «مَوْقُوذَة» ہے۔ میں نے کتے سے کیے ہوئے شکار کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ کتا تیرے لیے شکار کو روک رکھے تو کھا لو، کیونکہ کتے کا شکار کو پکڑ لینا بھی ذبح کے حکم میں ہے۔ اگر تم اپنے کتے یا اپنے کتوں کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے نے شکار پکڑا ہوگا اور وہ شکار کو مار چکا ہو، تو ایسے شکار کو نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا تھا، دوسرے کتے پر اللہ کا نام نہیں لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ/حدیث: 5475]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں