مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ الكَسْبِ الحَرَامِ)
حرام کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 2771
2771 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ ; فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص حرام مال کھاتا ہے اور پھر اس سے صدقہ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہوتا، اور وہ اس میں سے جو خرچ کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں کی جاتی، اور اگر وہ اسے ترکہ میں چھوڑ جاتا ہے تو وہ اس کے لیے آگ میں اضافے کا باعث بنتا ہے، کیونکہ اللہ برائی کے ذریعے برائی ختم نہیں کرتا بلکہ وہ نیکی کے ذریعے برائی ختم کرتا ہے اور خبیث، خبیث کو ختم نہیں کرتا۔ “ احمد، شرح السنہ میں بھی اسی طرح ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (387/1ح 3672 مطولاً) والبغوي في شرح السنة (10/8 ح 2030)
٭ فيه الصباح بن محمد: ضعيف و لبعضه شاھد ضعيف عند الحاکم (334/1، 335) و صححه ووافقه الذهبي .!»
٭ فيه الصباح بن محمد: ضعيف و لبعضه شاھد ضعيف عند الحاکم (334/1، 335) و صححه ووافقه الذهبي .!»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف