مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيْعُ التَّمْرِ الجَافِّ بِالتَّمْرِ الطَّازَجِ)
خشک کھجور کے بدلے تازی کھجور کی خرید و فروخت
حدیث نمبر: 2820
2820 - (وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ:"سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ"فَقَالَ"أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ"؟ فَقَالَ نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنِّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تازہ کھجوروں کے بدلے میں چھوہارے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا وہ (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟“ تو اس شخص نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا۔ اسنادہ حسن، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2820]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه مالک (624/2 ح 1353) والترمذي (1225 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (3359) والنسائي (268/7. 269 ح 4549) و ابن ماجه (2264)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن