مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (المُلَامَسَةُ وَالمُنَابَذَةُ فِي البَيْعِ وَالشِّرَاءِ مَمْنُوعَةٌ)
ملامسہ اور منابذہ، خرید و فروخت منع ہے
حدیث نمبر: 2853
2853 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ. وَالْمُلَابَسَةُ: لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ وَبِالنَّهَارِ وَلَا يَقْبَلُهُ إِلَّا بِذَلِكَ ، وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ ثَوْبَهُ وَيَكُونُ ذَلِكَ بَيْعَهُمَا عَنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ وَاللِّبْسَتَيْنِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ ، وَالصَّمَّاءُ أَنْ يَجْعَلَ ثَوْبَهُ عَلَى أَحَدِ عَاتِقَيْهِ فَيَبْدُوَ أَحَدُ شِقَّيْهِ لَيْسَ عَلَيْهِ ثَوْبٌ وَاللِّبْسَةُ الْأُخْرَى احْتِبَاؤُهُ بِثَوْبِهِ وَهُوَ جَالِسٌ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو طرح کے پہناووں اور دو طرح کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا، ملامسہ یہ ہے کہ آدمی دن یا رات کے وقت کسی دوسرے شخص کے کپڑے کو ہاتھ سے چھوتا ہے اور اسے الٹ پلٹ کر کے نہیں دیکھتا اور بس اس طرح بیع ہو جاتی ہے، جبکہ منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف اور وہ اپنا کپڑا اس پہلے شخص کی طرف پھینکتا ہے اور بس اسی طرح بِن دیکھے اور بغیر رضا مندی کے بیع ہو جاتی ہے۔ اور دو پہناوے یہ ہیں: ان میں سے ایک ”اشتمال الصماء“ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنا کپڑا اپنے کسی ایک کندھے پر رکھے اور اس کا ایک پہلو ظاہر رہے جس پر کوئی کپڑا نہ ہو، اور دوسرا پہناوا یہ ہے کہ گوٹ مار کر اس طرح بیٹھنا کہ اس کپڑے کا کچھ بھی حصہ اس کی شرم گاہ پر نہ ہو۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5820) و مسلم (1512/3)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه