مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَقُّ الشُّفْعَةِ لِلْأَرْضِ وَالمَسْكَنِ فَقَطْ)
شفعہ کا حق صرف زمین اور مکان کے لیے
حدیث نمبر: 2962
2962 - وَعَنْهُ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ : رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ:"لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غیر منقسم ہر مشترکہ چیز میں شفعہ کا فیصلہ دیا، وہ مکان ہو یا باغ: ”اس شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع کیے بغیر اسے فروخت کر دے، پھر اگر وہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو ترک کر دے، پھر اگر وہ فروخت کرتے وقت اسے اطلاع نہ کرے تو وہ (دوسرا شراکت دار) اس کا زیادہ حق دار ہے۔ “ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1608/134)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح