مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الشَّيْءُ المُعْطَى عَلَى سَبِيلِ العُمْرِيَّةِ يَكُونُ لِمَنْ أُعْطِيَ أَوْ لِذُرِّيَّتِهِ)
عمریٰ کے طور پر دی گئی چیز اس کی یا اس کی اولاد کی جس کو دی گئی
حدیث نمبر: 3015
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 3015 - عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَمْسِكُوا أَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ لَا تُفْسِدُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أُعْمِرَ حَيًّا وَمَيِّتًا وَلِعَقِبِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے اموال کی حفاظت کرو اور انہیں خراب نہ کرو، کیونکہ جس شخص نے «عُمْرٰی» (زندگی بھر کے لیے عطیہ) دیا تو وہ اسی شخص کا ہے جس کو «عُمْرٰی» دیا گیا، اس کی زندگی میں بھی، اس کے مرنے کے بعد بھی اور اس کے ورثاء کا ہے۔“ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب البيوع/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1625/26)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح