صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ مَا يُؤْكَلُ مِنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ وَمَا يُتَزَوَّدُ مِنْهَا:
باب: قربانی کا کتنا گوشت کھایا جائے اور کتنا جمع کر کے رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 5567
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ: غَيْرَ مَرَّةٍ لُحُومَ الْهَدْيِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ (بجائے «لحوم الأضاحي» کے) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5567]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ تک قربانی کا گوشت جمع رکھتے تھے۔“ راوی نے کئی مرتبہ (”قربانی کا گوشت“ کے بجائے) ”ہدی کا گوشت“ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5567]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5568
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ: أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّه سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ:" أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا فَقَدِمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ، قَالُوا: هَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا، فَقَالَ: أَخِّرُوهُ، لَا أَذُوقُهُ، قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي أَبَا قَتَادَةَ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے، انہیں ابن خزیمہ نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5568]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ سفر میں تھے، جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت پیش کیا گیا اور اہل خانہ نے کہا: ”یہ ہماری قربانیوں کا گوشت ہے۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اسے اٹھا لو، میں اسے نہیں کھاؤں گا۔“ پھر میں اٹھا اور گھر سے باہر چلا گیا، مادری بھائی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ ان کے مادری بھائی تھے اور جنگ بدر میں شریک تھے، جب میں نے ان سے یہ معاملہ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ”تمہارے بعد نیا حکم ظاہر ہوا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5569
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلَا يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ، وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ"، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ الْمَاضِي، قَالَ:" كُلُوا، وَأَطْعِمُوا، وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ الْعَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ (کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5569]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تم میں سے قربانی کی ہے وہ تیسرے دن اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔“ جب دوسرا سال آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خود کھاؤ، دوسروں کو کھلاؤ اور ذخیرہ بھی کرو کیونکہ پچھلے سال تو لوگ تنگی میں مبتلا تھے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کا تعاون کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5569]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5570
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" لَا تَأْكُلُوا إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ" وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے اور ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5570]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم مدینہ طیبہ میں قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر رکھ دیتے تھے، پھر اسے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک نہ کھاؤ۔“ یہ حکم کوئی ضروری نہیں تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت ان لوگوں کو بھی کھلائیں جن کے ہاں قربانی نہ ہوئی ہو۔“ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5570]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5571
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ شَهِدَ الْعِيدَ يَوْمَ الْأَضْحَى مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَاكُمْ عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْعِيدَيْنِ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَيَوْمٌ تَأْكُلُونَ مِنْ نُسُكِكُمْ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5571]
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو ابن زہر کے آزاد کردہ غلام تھے اور وہ عید الاضحیٰ کے موقع پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، ان کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبے سے قبل نمازِ عید پڑھائی، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عید کے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: ایک تو وہ دن ہے جب روزے پورے کر کے تم عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن ہے جس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5572
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِيهِ عِيدَانِ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَلْيَنْتَظِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ".
ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں) حاضر تھا۔ اس دن جمعہ بھی تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں۔ (عید اور جمعہ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے (نماز عید کے بعد ہی) تو وہ واپس جا سکتا ہے، میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5572]
حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”پھر میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حاضر ہوا اور یہ حجۃ المبارک کا دن تھا۔ انہوں نے خطبے سے پہلے نمازِ عید پڑھائی، پھر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! اس دن میں تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، اطرافِ مدینہ کے رہنے والوں میں سے جو کوئی پسند کرتا ہے کہ جمعہ کا بھی انتظار کرے تو وہ انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہتا ہے تو وہ جا سکتا ہے، میں اسے اجازت دیتا ہوں۔“” [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5573
قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: ثُمَّ شَهِدْتُهُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَصَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِكُمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ"، وعَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ نَحْوَهُ.
ابوعبید نے بیان کیا کہ پھر میں عید کی نماز میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5573]
حضرت ابو عبید ہی روایت کرتے ہیں کہ پھر میں عید کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھی، پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک کھانے کی ممانعت کی ہے“، معمر نے امام زہری سے، انہوں نے ابو عبید سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5573]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا مِنَ الأَضَاحِيِّ ثَلاَثًا» . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَأْكُلُ بِالزَّيْتِ حِينَ يَنْفِرُ مِنْ مِنًى، مِنْ أَجْلِ لُحُومِ الْهَدْيِ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب کے بھتیجے نے، انہیں ان کے چچا ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، انہیں سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ سے کوچ کرتے وقت روٹی زیتون کے تیل سے کھاتے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے (تین دن کے بعد) پرہیز کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5574]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ منیٰ سے کوچ کرتے وقت زیتون کے تیل سے روٹی کھاتے تھے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے اجتناب کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة