مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا فَائِدَةَ مِنَ العَزْلِ لِأَيِّ خَوْفٍ)
کسی بھی ڈر سے عزل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں
حدیث نمبر: 3188
3188 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي . قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"لِمَ تَفْعَلُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ الرَّجُلُ أَشْفِقُ عَلَى وَلَدِهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ ضَارًّا ضَرَّ فَارِسَ وَالرُّومَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کیا: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم یہ کیوں کرتے ہو؟“ اس آدمی نے عرض کیا: مجھے اس کے بچے (حمل یا شیر خوار) کے متعلق اندیشہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ (جماع) مضر ہوتا تو یہ فارسیوں اور رومیوں کے لیے مضر ہوتا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3188]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1443/143)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح