مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَبُولُ الإِسْلَامِ كَمَهْرٍ)
قبولیت اسلام حق مہر
حدیث نمبر: 3209
3209 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامَ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ فَأَسْلَمَ فَكَانَ صَدَاقَ مَا بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اُم سلیم رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو ان دونوں کے درمیان حق مہر اسلام تھا، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام قبول کر لیا تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام نکاح بھیجا جس پر انہوں نے کہا: میں نے تو اسلام قبول کر لیا ہے، اگر تم بھی اسلام قبول کر لو تو میں تم سے نکاح کر لوں گی۔ (اور میں حق مہر نہیں لوں گی) انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور یہی ان دونوں کے درمیان حق مہر تھا۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ النَّسَائِيُّ» ”اس کی سند صحیح ہے، اسے نسائی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه النسائي (114/6 ح 3343)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح