صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ تَرْخِيصِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الأَوْعِيَةِ وَالظُّرُوفِ بَعْدَ النَّهْيِ:
باب: ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا۔
حدیث نمبر: 5592
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الظُّرُوفِ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا مِنْهَا، قَالَ: فَلَا إِذًا"، وَقَالَ خَلِيفَةُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ ابواحمد زبیری نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی (جن میں شراب بنتی تھی) ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5592]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخصوص برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار نے عرض کی: ”ہمارے لیے تو ان کے بغیر دوسرا چارہ کار نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو خیر پھر اجازت ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5592]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5593
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَسْقِيَةِ، قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً: فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ". حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا، وَقَالَ فِيهِ: لَمَّا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے، وہ مجاہد سے، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے (روغن زفت لگے برتن) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5593]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے سوا دوسرے مخصوص برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ سے عرض کی: ”ہر کسی کو مشکیزہ کہاں سے مل سکتا ہے؟“ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکول کے برتن کے علاوہ مٹکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5593]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5594
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ"، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت (خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5594]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو اور تار کول کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔“ عثمان بن ابی شیبہ نے جریر کے واسطے سے اعمش سے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5594]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5595
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قُلْتُ لِلْأَسْوَدِ: هَلْ سَأَلْتَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا يُكْرَهُ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟، قَالَتْ: نَهَانَا فِي ذَلِكَ أَهْلَ الْبَيْتِ أَنْ نَنْتَبِذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ، قُلْتُ: أَمَا ذَكَرَتِ الْجَرَّ وَالْحَنْتَمَ؟، قَالَ: إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ، أَفَأُحَدِّثُ مَا لَمْ أَسْمَعْ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے کہ میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ (کھجور کا میٹھا شربت) بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔ (ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ) میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5595]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت اسود بن یزید رحمہ اللہ سے پوچھا: ”کیا تم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟“ حضرت اسود رحمہ اللہ نے کہا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کی: ”ام المؤمنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کس برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم اہل خانہ کو کدو اور تارکول کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔“ میں نے حضرت اسود رحمہ اللہ سے پوچھا کہ انہوں نے مٹکے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا: ”میں تم سے وہی کچھ بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے، کیا وہ بھی بیان کروں جو میں نے نہیں سنا؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5595]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5596
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ، قُلْتُ: أَنَشْرَبُ فِي الْأَبْيَضِ؟، قَالَ: لَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5596]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز مٹکوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا، میں نے عرض کی: ”ہم سفید مٹکوں میں نبیذ بنا کر نوش کر لیا کریں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5596]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة