مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (رُجُوعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ السَّيِّدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر سے واپس چلے جانا
حدیث نمبر: 3221
3221 - وَعَنْ سَفِينَةَ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ قَالَتْ فَاطِمَةُ فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَدَّكَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ
سفینہ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام) سے روایت ہے کہ ایک آدمی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان ٹھہرا تو انہوں نے اس کے لیے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مدعو کر لیں تاکہ وہ ہمارے ساتھ تناول فرما لیں؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تو آپ تشریف لائے اور آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھے تھے کہ گھر کی ایک جانب لگے ہوئے منقش پردے کو دیکھا تو آپ واپس تشریف لے گئے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں آپ کے پیچھے گئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو واپس کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے یا کسی نبی کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (220/5. 221 ح 22267، 22271) و ابن ماجه (3360)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن