مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (نَصِيحَةُ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ قَبْلَ اللِّعَانِ)
لعان سے پہلے مرد اور عورت کو نصیحت
حدیث نمبر: 3305
3305 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَاعَنَ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَتِهِ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي حَدِيثِهِ لَهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَظَهُ، وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا، وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شوہر اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا، اس (آدمی) نے اس کے بچے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور بچے کو عورت کے حوالے کر دیا۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے شوہر کو وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو بلایا اور اسے بھی وعظ و نصیحت کی اور اسے بھی بتایا کہ ”دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے“۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب النكاح/حدیث: 3305]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5315) و مسلم (1494/8، 1493/4)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه