صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ التَّلْبِينَةِ لِلْمَرِيضِ:
باب: مریض کے لیے حریرہ پکانا۔
حدیث نمبر: 5689
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينِ لِلْمَرِيضِ وَلِلْمَحْزُونِ عَلَى الْهَالِكِ، وَكَانَتْ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ التَّلْبِينَةَ تُجِمُّ فُؤَادَ الْمَرِيضِ وَتَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ".
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں عقیل نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ (روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے (کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ مریض اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ بنانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا اور کچھ غم کو دور کر دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5689]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5690
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّهَا كَانَتْ تَأْمُرُ بِالتَّلْبِينَةِ، وَتَقُولُ: هُوَ الْبَغِيضُ النَّافِعُ".
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ (مریض کو) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5690]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ تلبینہ تیار کرنے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں: ”اگرچہ کھانے میں پسندیدہ نہیں ہوتا لیکن وہ فائدہ مند ضرور ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة