🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ الْحِجَامَةِ مِنَ الدَّاءِ:
باب: بیماری کی وجہ سے پچھنا لگوانا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَجْرِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ، وَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، فَخَفَّفُوا عَنْهُ، وَقَالَ: إِنَّ أَمْثَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ، وَقَالَ: لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ وَعَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید الطویل نے خبر دی اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھنا لگوانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تھا آپ کو ابوطیبہ (نافع یا میسرہ) نے پچھنا لگایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ نے ان کے مالکوں (بنو حارثہ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کئے جانے والے لگان میں کمی کر دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (خون کے دباؤ کا) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عود ہندی کا استعمال کرنا ہے اور فرمایا اپنے بچوں کو «عذرة» (حلق کی بیماری) میں ان کا تالو دبا کر تکلیف مت دو بلکہ «قسط» لگا دو اس سے ورم جاتا رہے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5696]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سینگی لگوانے والے کی مزدوری کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے سینگی لگائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع غلہ دیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو طیبہ رضی اللہ عنہ کے آقاؤں سے اس کے ٹیکس کے متعلق گفتگو کی تو انہوں نے اس میں تخفیف کر دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنے لگوانا ہے اور عود بحری استعمال کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: تم اپنے بچوں کو حلق کی بیماری کی وجہ سے ان کا تالو دبا کر تکلیف نہ دیا کرو بلکہ (اس کے لیے) تم قسط ہندی استعمال کیا کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5696]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5697
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَغَيْرُهُ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَادَ الْمُقَنَّعَ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أَبْرَحُ حَتَّى تَحْتَجِمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، إِنَّ فِيهِ شِفَاءً".
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو وغیرہ نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ مقنع بن سنان تابعی کی عیادت کے لیے تشریف لائے پھر ان سے کہا کہ جب تک تم پچھنا نہ لگوا لو گے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں شفاء ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5697]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے مقنع بن سنان کی عیادت کی، پھر ان سے فرمایا: جب تک تم سینگی نہیں لگواؤ گے میں یہاں بیٹھا رہوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ فِيْهِ شِفَاءً» یقیناً اس میں شفا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5697]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں