صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ مَسْحِ الرَّاقِي الْوَجَعَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:
باب: بیمار پر دم کرتے وقت درد کی جگہ پر داہنا ہاتھ پھیرنا۔
حدیث نمبر: 5750
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بَعْضَهُمْ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، فَذَكَرْتُهُ لِمَنْصُورٍ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بن ابوالصبیح نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے گھر کے) بعض لوگوں پر دم کرتے وقت اپنا داہنا ہاتھ پھیرتے (اور یہ دعا پڑھتے تھے) «أذهب الباس رب الناس، واشف أنت الشافي، لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما» ”تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے رب! اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء وہی ہے جو تیری طرف سے ہو ایسی شفاء کہ بیماری ذرا بھی باقی نہ رہ جائے۔“ (سفیان نے کہا کہ) پھر میں نے یہ منصور سے بیان کیا تو انہوں نے مجھ سے ابراہیم نخعی سے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہی کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5750]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی پر دم کرتے وقت اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: «أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے لوگوں کے رب! تکلیف دور کر دے اور شفا دے۔ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ شفا وہی ہے جو تیری طرف سے ہو، ایسی شفا کہ بیماری کا نشان تک نہ رہے۔“ سفیان نے کہا: میں نے یہ منصور سے ذکر کیا تو انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة