مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (أَيُّ جُزْءٍ مِنَ الْحَيَوَانِ يُوْسَمُ؟)
جانور کے کس حصے کو داغا جائے
حدیث نمبر: 4080
4080 - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاءً، حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ہشام بن زید رحمہ اللہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ باڑے میں تھے، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں، میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: آپ ان (بکریوں) کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5542) ومسلم (115/ 2119)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه