🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (سَيُسْأَلُ عَنْ هَذِهِ النِّعَمِ)
اس قسم کی نعمتوں کا سوال ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4253
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4253 - عَنْ أَبِي عَسِيبٍ، قَالَ:"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلًا، فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ:"أَطْعِمْنَا بُسْرًا"فَجَاءَ بِعِذْقٍ، فَوَضَعَهُ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ، فَشَرِبَ فَقَالَ:"لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ:"نَعَمْ، إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ، أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ، أَوْ حُجْرٍ تَدْخُلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"مُرْسَلٌ.
ابوعسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک رات رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے میرے پاس سے گزرے تو مجھے آواز دی، میں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی، وہ بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی آواز دی، وہ بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چلتے گئے حتیٰ کہ کسی انصاری صحابی کے باغ میں تشریف لے گئے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے باغ کے مالک سے فرمایا: ”ہمیں پکی ہوئی کھجوریں کھلاؤ۔“ وہ ایک خوشہ لائے جسے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ٹھنڈا پانی منگایا اور اسے نوش فرمایا، پھر فرمایا: ”روزِ قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ پکڑ کر زمین پر مارا حتیٰ کہ وہ کھجوریں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بکھر گئیں، پھر عرض کیا، اللہ کے رسول صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! کیا روزِ قیامت ہم سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مگر تین چیزوں کے متعلق سوال نہیں ہوگا، وہ کپڑا جس سے آدمی اپنا ستر ڈھانپتا ہے، یا روٹی کا ٹکڑا جس سے وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے، یا وہ کمرہ جس میں وہ گرمی، سردی میں رہائش رکھتا ہے۔“ امام احمد اور بیہقی نے «شُعَبُ الْإِيمَانِ» میں اسے روایت کیا ہے، اس کی سند حسن ہے، اسے احمد اور بیہقی نے «شُعَبُ الْإِيمَانِ» میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4253]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (81/5 ح 21049، نسخة محققة:20768) و البيھقي في شعب الإيمان (4601)
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں