مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا تَمْسَحُ ٱلرَّأْسَ بِٱلْيَدِ بِسَبَبِ ٱلْخُلُوقِ)
خلوق کی وجہ سر پر ہاتھ نہ پھیرنا
حدیث نمبر: 4482
4482 - وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ، فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ، وَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ، فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو اہل مکہ اپنے بچے آپ کے پاس لانے لگے، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، مجھے بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جبکہ میں نے خلوق (زعفران کے ساتھ مخلوط خوشبو) لگائی ہوئی تھی، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب اللباس/حدیث: 4482]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4181)
٭ عبد الله الھمداني: مجھول، و خبره منکر، قاله ابن عبد البر .»
٭ عبد الله الھمداني: مجھول، و خبره منکر، قاله ابن عبد البر .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف