صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ مَنْ جَعَلَ فَصَّ الْخَاتَمِ فِي بَطْنِ كَفِّهِ:
باب: انگوٹھی کا نگینہ اندر ہتھیلی کی طرف رکھنا۔
حدیث نمبر: 5876
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَجَعَلَ فَصَّهُ فِي بَطْنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَاصْطَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَقِيَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ اصْطَنَعْتُهُ وَإِنِّي لَا أَلْبَسُهُ" فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ، قَالَ جُوَيْرِيَةُ: وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ: فِي يَدِهِ الْيُمْنَى.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ (حرمت نازل ہونے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے ”داہنے ہاتھ میں“ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5876]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی اندر کی طرف کیا۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”میں نے سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی لیکن میں اب اسے نہیں پہنوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ جویریہ نے کہا: مجھے یاد ہے کہ انہوں نے دائیں ہاتھ میں پہننے کے الفاظ بیان کیے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5876]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة