صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ الأَبْوَابِ وَالْغَلَقِ لِلْكَعْبَةِ وَالْمَسَاجِدِ:
باب: کعبہ اور مساجد میں دروازے اور زنجیر رکھنا۔
حدیث نمبر: Q468
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا عَبْدَ الْمَلِكِ،" لَوْ رَأَيْتَ مَسَاجِدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبْوَابَهَا"
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبدالملک ابن جریج کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اے عبدالملک! اگر تم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مساجد اور ان کے دروازوں کو دیکھتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: Q468]
حدیث نمبر: 468
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَدَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَفَتَحَ الْبَابَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، ثُمَّ أَغْلَقَ الْبَابَ فَلَبِثَ فِيهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَجُوا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَبَدَرْتُ فَسَأَلْتُ بِلَالًا، فَقَالَ: صَلَّى فِيهِ، فَقُلْتُ: فِي أَيٍّ، قَالَ: بَيْنَ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَذَهَبَ عَلَيَّ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی کے واسطہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے (اور مکہ فتح ہوا) تو آپ نے عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا۔ (جو کعبہ کے متولی، چابی بردار تھے) انہوں نے دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال، اسامہ بن زید اور عثمان بن طلحہ چاروں اندر تشریف لے گئے۔ پھر دروازہ بند کر دیا گیا اور وہاں تھوڑی دیر تک ٹھہر کر باہر آئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر بلال سے پوچھا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر کیا کیا) انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کس جگہ؟ کہا کہ دونوں ستونوں کے درمیان۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ پوچھنا مجھے یاد نہ رہا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 468]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چابی بردار) حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا، انہوں نے بیت اللہ کا دروازہ کھولا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم اندر گئے۔ بعد ازیں دروازہ بند کر لیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تھوڑی دیر رہے، پھر سب باہر نکلے، خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جلد اٹھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھا تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبے کے اندر نماز پڑھی ہے۔ میں نے پوچھا: کس مقام پر؟ تو انہوں نے کہا: دونوں ستونوں کے درمیان۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ بات پوچھنے سے رہ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعات پڑھی تھیں؟ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة