مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْغَضَبُ عَلَى جَوَابِ الْعُطَاسِ الْخَاطِئِ)
چھینک کے غلط جواب پر ناراضگی
حدیث نمبر: 4744
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4744 - عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو“، (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی کہتا ہوں: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللّٰهِ» ”ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو“، مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَىٰ كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال پر اللہ کا شکر ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2738)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن