🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (امْتِنَاعُ الأَنْبِيَاءِ عَنِ الشَّفَاعَةِ)
مختلف انبیاء کرام کا سفارش کرنے سے گریز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5608
5608 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ؟ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ"قَالَ:"فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ، اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ، فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ  ، وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ". قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: (أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، وَشَدِّ الرِّجَالِ، تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا. وَقَالَ:"وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ، تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ". وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حذیفہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں کو جمع فرمائے گا تو مومن کھڑے ہوں گے حتی کہ ان کے لیے جنت قریب کر دی جائے گی، وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: ہمارے ابا جان! ہمارے لیے جنت کھلنے کی درخواست کریں، وہ کہیں گے: تمہارے والد کی غلطی ہی نے تو تمہیں جنت سے نکلوایا تھا، میں اس کے اہل نہیں ہوں، تم میرے بیٹے اللہ کے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، فرمایا: ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: میں بھی اس کے اہل نہیں ہوں میں تو بہت پہلے (دنیا میں) خلیل تھا، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جس سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ہے، وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، تو وہ بھی کہیں گے: میں اس کے اہل نہیں ہوں، تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، عیسیٰ علیہ السلام بھی کہیں گے: میں اس کے اہل نہیں ہوں، وہ محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں گے، وہ کھڑے ہوں گے، انہیں اجازت دی جائے گی، امانت اور صلہ رحمی کو بھیجا جائے گا، وہ پل صراط کے دونوں طرف کھڑی ہو جائیں گی، تم میں سے پہلا بجلی کی طرح گزر جائے گا“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: میرے والدین آپ پر قربان ہوں، بجلی کی طرح گزرنے کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے بجلی نہیں دیکھی، وہ آنکھ جھپکنے میں گزرتی ہے اور واپس آ جاتی ہے۔ پھر ہوا کے چلنے کی طرح، پھر پرندے کی طرح اور تیز چلنے والے آدمیوں کی طرح، ان کے اعمال انہیں لے کر چلیں گے، اور تمہارے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پل صراط پر کھڑے ہوں گے، وہ کہہ رہے ہوں گے: «رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ» ”رب جی! سلامتی عطا فرما، سلامتی عطا فرما“ حتی کہ بندوں کے اعمال عاجز آ جائیں گے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جو چلنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا، بلکہ وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو گا۔“ اور فرمایا: ”پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے معلق ہوں گے، وہ اس بات پر مامور ہوں گے کہ جس کے متعلق اسے حکم دیا جائے گا وہ اسے پکڑ لیں گے، کچھ لوگ مجروح ہوں گے، نجات پانے والے ہوں گے، اور کچھ جہنم میں دھکیل دیے جائیں گے۔“ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5608]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (329/ 195)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5609
5609 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَجْمَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّاسَ، فَيَقُومُ الْمُؤْمِنُونَ، حَتَّى تُزْلَفَ لَهُمُ الْجَنَّةُ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا أَبَانَا اسْتَفْتِحْ لَنَا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: وَهَلْ أَخْرَجَكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا خَطِيئَةُ أَبِيكُمْ؟ لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى ابْنِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ"قَالَ:"فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، إِنَّمَا كُنْتُ خَلِيلًا مِنْ وَرَاءَ وَرَاءَ، اعْمَدُوا إِلَى مُوسَى الَّذِي كَلَّمَهُ اللَّهُ تَكْلِيمًا، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى كَلِمَةِ اللَّهِ وَرُوحِهِ، فَيَقُولُ عِيسَى: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَلِكَ، فَيَأْتُونَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُومُ فَيُؤْذَنُ لَهُ  ، وَتُرْسَلُ الْأَمَانَةُ وَالرَّحِمُ، فَيَقُومَانِ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَيَمُرُّ أَوَّلُكُمْ كَالْبَرْقِ". قَالَ: قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَيُّ شَيْءٍ كَمَرِّ الْبَرْقِ؟ قَالَ: (أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْبَرْقِ كَيْفَ يَمُرُّ وَيَرْجِعُ فِي طَرْفَةِ عَيْنٍ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، وَشَدِّ الرِّجَالِ، تَجْرِي بِهِمْ أَعْمَالُهُمْ، وَنَبِيُّكُمْ قَائِمٌ عَلَى الصِّرَاطِ يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ، حَتَّى تَعْجِزَ أَعْمَالُ الْعِبَادِ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ فَلَا يَسْتَطِيعُ السَّيْرَ إِلَّا زَحْفًا. وَقَالَ:"وَفِي حَافَتَيِ الصِّرَاطِ كَلَالِيبُ مُعَلَّقَةٌ مَأْمُورَةٌ، تَأْخُذُ مَنْ أُمِرَتْ بِهِ، فَمَخْدُوشٌ نَاجٍ، وَمُكَرْدَسٌ فِي النَّارِ". وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ إِنَّ قَعْرَ جَهَنَّمَ لَسَبْعِينَ خَرِيفًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں