مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا عَائِقَ لِأَهْلِ الجَنَّةِ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ تَعَالَى)
اہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کے دیدار میں کوئی رکا وٹ نہیں ہو گی
حدیث نمبر: 5658
5658 - وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى رَبَّهُ مُخْلِيًا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:"بَلَى". قَالَ: قُلْتُ: وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ:"يَا أَبَا رَزِينٍ، أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ لَيْلَةَ بَدْرٍ مُخْلِيًا بِهِ؟"قَالَ: بَلَى. قَالَ:"فَإِنَّمَا هُوَ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْظَمُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا قیامت کے روز ہم سب اللہ کو اکیلے اکیلے دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیوں نہیں۔“ میں نے عرض کیا: اس کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ابورزین! کیا تم سب چودھویں رات کے چاند کو اکیلے اکیلے نہیں دیکھتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں (دیکھتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (چاند) تو اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ «أَجَلُّ وَأَعْظَمُ» ”بہت بزرگ اور بہت عظیم“ ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5658]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4731)
وَبَعْضهمْ يُحسنهُ)»
وَبَعْضهمْ يُحسنهُ)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن