🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (وَاقِعَةُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5704
5704 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ  : ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ. قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا، وَقَالَ: بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ، إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: أُخْتِي: فَأَتَى سَارَةَ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا الْجَبَّارَ إِنْ يَعْلَمْ أَنَّكِ امْرَأَتِي يَغْلِبُنِي عَلَيْكِ، فَإِنْ سَأَلَكِ فَأَخْبِرِيهِ أَنَّكِ أُخْتِي لِأَنَّكِ أُخْتِي فِي الْإِسْلَامِ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَأُتِيَ بِهَا، قَامَ إِبْرَاهِيمُ يُصَلِّي، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ. فَأُخِذَ - وَيُرْوَى فَغُطَّ - حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ، فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدُّ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِينِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَوْمَأَ يَدَهُ مَهْيَمْ؟ قَالَتْ: رَدَّ اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ فِي نَحْرِهِ، وَأَخْدَمَ هَاجَرَ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے، ان میں سے دو اللہ عزوجل کی خاطر تھے، ایک ان کا قول ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] ”میں بیمار ہوں“ اور دوسرا ان کا یہ کہنا ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ یہ ان کے اس بڑے نے کیا ہے“۔“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ایک روز وہ (ابراہیم علیہ السلام) اور (ان کی اہلیہ) سارہ رضی اللہ عنہا ایک ظالم بادشاہ کی سلطنت سے گزر رہے تھے تو اس (بادشاہ) کو بتایا گیا کہ یہاں ایک آدمی ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، اس (بادشاہ) نے ابراہیم علیہ السلام کو بلا بھیجا اور ان سے سارہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میری بہن ہے، پھر ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ یہ ظالم بادشاہ ہے، اگر اسے پتا چل جائے کہ تو میری اہلیہ ہے تو وہ تیرے بارے میں مجھ پر غالب آ جائے گا، اگر وہ تجھ سے پوچھے تو یہی کہنا کہ تو میری بہن ہے، کیونکہ تو میری اسلامی بہن ہے، روئے زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی اور مومن نہیں، اس (بادشاہ) نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بلا بھیجا، انہیں لایا گیا تو ابراہیم علیہ السلام نماز پڑھنے لگے، جب وہ ان کے پاس گئیں اور اس نے دست درازی کی کوشش کی تو اسے پکڑ لیا گیا۔“ اور اس طرح بھی مروی ہے کہ ”اس کا گلا گھونٹ دیا گیا حتی کہ اس نے زمین پر اپنا پاؤں مارا اور کہا: اللہ سے میرے لیے دعا کرو میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا، انہوں نے اللہ سے دعا کی تو اسے چھوڑ دیا گیا، اس نے دوسری مرتبہ دست درازی کی کوشش کی تو اسے اسی طرح یا اس سے بھی سختی کے ساتھ پکڑ لیا گیا، اس نے کہا: اللہ سے میرے لیے دعا کرو، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا، انہوں نے اللہ سے دعا کی تو اسے چھوڑ دیا گیا، اس نے اپنے کسی دربان کو بلایا اور کہا: تو نے میرے پاس کسی انسان کو نہیں بلکہ کسی شیطان کو بھیجا ہے، اس نے سارہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کے لیے انہیں ہاجر رضی اللہ عنہا عطا کی، وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں تو وہ کھڑے نماز ادا کر رہے تھے، انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا: کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا: اللہ نے کافر کی تدبیر کو اسی پر الٹ دیا ہے، اور اس نے خدمت کے لیے ہاجر رضی اللہ عنہا دی ہے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اہل عرب (بارش پر گزارہ کرنے والو)! یہ ہاجر رضی اللہ عنہا تمہاری والدہ ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب أحوال القيامة وبدء الخلق/حدیث: 5704]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2213، 3358) و مسلم (154/ 2371)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں