مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَيْفِيَّاتُ نُزُولِ الوَحْيِ)
نزول وحی کی کیفیات
حدیث نمبر: 5844
5844 - وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ ، فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي، فَأَعِي مَا يَقُولُ) . قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی سی آواز کی صورت میں آتی ہے، اور وہ مجھ پر نہایت سخت ہوتی ہے، پھر جب وہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو جو وہ کہتا ہے، میں اسے یاد کر لیتا ہوں؛ اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، پس وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ سے پسینہ پھوٹ پڑتا اور آپ کی پیشانی پسینے سے شرابور ہو جاتی۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5844]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2) و مسلم (87، 86 / 2333)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه