مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُمُوعٌ ثَمِينَةٌ مِنَ النَّاسِ)
لوگوں سے قیمتی آنسو
حدیث نمبر: 5887
5887 - وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَعَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدًا وَجَعْفَرًا وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ فَقَالَ: (أَخْذَ الرَّايَةَ زِيدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ـ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ـ حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ - يَعْنِي خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدَ - حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی خبر شہادت آنے سے پہلے ہی ان کی شہادت کے متعلق لوگوں کو بتا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”زید نے پرچم تھام لیا اور وہ شہید کر دیے گئے، پھر جعفر نے تھام لیا وہ بھی شہید کر دیے گئے، پھر ابن رواحہ نے تھام لیا تو وہ بھی شہید کر دیے گئے۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، (پھر فرمایا:) ”حتیٰ کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار یعنی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پرچم تھام لیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5887]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4262)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح