صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
120. بَابُ الرَّجُلِ يَنْكُتُ الشَّيْءَ بِيَدِهِ فِي الأَرْضِ:
باب: کسی شخص کا زمین پر کسی چیز کو مارنا۔
حدیث نمبر: 6217
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ"، فَقَالُوا: أَفَلَا نَتَّكِلُ. قَالَ:" اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5" الْآيَةَ..
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى» ”جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا“ آخر تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6217]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم ایک جنازے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی) آپ چھڑی سے زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ میں ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ”کیا ہم اس پر توکل نہ کر لیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔“ (ارشادِ باری تعالیٰ ہے:) ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ﴾ [سورة الليل: 5] ”بہرحال جس نے دیا اور اللہ سے ڈر گیا۔۔۔۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة