🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (وَعْدُ المَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ لِأَهْلِ بَدْرٍ)
اہل بدر سے مغفرت و بخشش کا وعدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6225
6225 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ وَفِي رِوَايَةٍ وَأَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَةٌ يَحْمُونَ بِهَا أَمْوَالَهُمْ وَأَهْلَهُمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ  ."وَفِي رِوَايَةٍ قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ کو، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہم کو (ایک دوسری روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے) کسی کام پر روانہ فرمایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم چلتے جانا حتیٰ کہ تم روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ، وہاں ایک عورت ہو گی جس کے پاس ایک خط ہو گا، تم وہ اس سے لے لینا۔“ ہم روانہ ہوئے، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے رہے حتیٰ کہ ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں ہمیں وہ عورت مل گئی۔ ہم نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے! چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں لکھا ہوا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مکہ کے چند مشرکین کے نام، انہوں نے اس میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کے متعلق انہیں خبر دی تھی۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا (ماجرا) ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں، میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں قریش کا حلیف ہوں اور میں ان کے خاندان میں سے نہیں ہوں، اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی تو ان سے قرابت ہے جس کی وجہ سے وہ مکہ میں اپنے اموال اور اہل و عیال کی حفاظت کر رہے ہیں، میں نے ان سے نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پسند کیا کہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے، نہ اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے، تب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچی بات کہی ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت فرمائیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے غزوۂ بدر میں شرکت کی ہے، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے احوال سے پہلے ہی واقف تھا، اس لیے اس نے فرمایا: ”جو چاہو سو کرو، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔““ ایک دوسری روایت میں ہے: ”میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6259 والرواية الثانية: 4274) و مسلم (161/ 2494)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں