صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ إِذَا قَالَ مَنْ ذَا فَقَالَ أَنَا:
باب: اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اور نام نہ لے۔
حدیث نمبر: 6250
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ:" مَنْ ذَا"، فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ:" أَنَا، أَنَا، كَأَنَّهُ كَرِهَهَا".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6250]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة