🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ مَنْ يُحْذَرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ لِيَسْتَبِينَ أَمْرُهُ:
باب: جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے ایسے شخص کا مکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6259
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ بُهْلُولٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، والزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنَ الْمُشْرِكِينَ مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ"، قَالَ: فَأَدْرَكْنَاهَا تَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهَا، حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْنَا: أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ؟ قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَأَنَخْنَا بِهَا فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا، قَالَ صَاحِبَايَ: مَا نَرَى كِتَابًا، قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ عَلِمْتُ مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَتِ الْجِدَّ مِنِّي، أَهْوَتْ بِيَدِهَا إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ، فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ يَا حَاطِبُ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ: مَا بِي إِلَّا أَنْ أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَا غَيَّرْتُ، وَلَا بَدَّلْتُ، أَرَدْتُ أَنْ تَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ هُنَاكَ إِلَّا وَلَهُ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، قَالَ:" صَدَقَ فَلَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّهُ قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، فَدَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا عُمَرُ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ"، فَقَالَ:" اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ"، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَا عُمَرَ، وَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے (اسے لے آؤ)۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی (جہاں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں ننگا کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی ہے، میرا مقصد (خط بھیجنے سے) صرف یہ تھا کہ (قریش پر آپ کی فوج کشی کی اطلاع دوں اور اس طرح) میرا ان لوگوں پر احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے اللہ میرے اہل اور مال کی طرف سے (ان سے) مدافعت کرائے۔ آپ کے جتنے مہاجر صحابہ ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد ہیں جن کے ذریعہ اللہ ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہ دیا ہے اب تم لوگ ان کے بارے میں سوا بھلائی کے اور کچھ نہ کہو بیان کیا کہ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر کی لڑائی میں شریک صحابہ کی زندگی پر مطلع تھا اور اس کے باوجود فرمایا کہ تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت لکھ دی گئی ہے، بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6259]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مرثد غنویٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، ہم تینوں گھوڑوں پر سوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور روضہ خاخ پہنچو، وہاں تمہیں ایک مشرکہ عورت ملے گی، اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو انہوں نے مشرکین کے نام لکھا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم نے وہاں ایک عورت کو پا لیا جو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر جا رہی تھی، وہ ہمیں اسی مقام پر ملی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، ہم نے اس سے کہا: جو خط تم اپنے ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوے میں اسے تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود وہ دستیاب نہ ہو سکا، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں تو کوئی خط وغیرہ نظر نہیں آیا۔ میں نے کہا: مجھے یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی، اس ذات کی قسم جس کے نام پر قسم اٹھائی جاتی ہے! تم خط نکالو بصورتِ دیگر ہم تجھے ننگا کر کے خط برآمد کریں گے۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں نے ہاتھ بڑھائے جبکہ وہ چادر باندھے ہوئے تھی تو اس نے خط نکال کر دے دیا۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم وہ خط لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کی: میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں، میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی، میرا مقصد صرف یہ تھا کہ میرا اہل مکہ پر کچھ احسان ہو جائے تاکہ اس کے سبب اللہ تعالیٰ میرے اہل و عیال اور مال و متاع کی نگرانی فرمائے، آپ کے جتنے اصحاب ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد موجود ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان کے مال اور اہل و عیال کی حفاظت فرماتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے، اب تم لوگ اس کے متعلق بھلائی اور خیر سگالی کے علاوہ کچھ نہ کہو۔ یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان سے خیانت کی ہے، آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تمہیں کیا معلوم؟ یقیناً اللہ تعالیٰ اہل بدر کی زندگی پر مطلع تھا، اس کے باوجود اس نے کہا: تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6259]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں