مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. مُسْنَدُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 1415
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا الشَّيْبَ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کر سکتے ہو لیکن یہودیوں کی مشابہت اس موقع پر بھی اختیار کرنے سے بچو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1415]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف تفرد برفعه ابن كناسة و اصحاب هشام رووه عن عروة مرسلاً، وهو الصواب
حدیث نمبر: 1416
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ مَخْزُومِيٌّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بن عَبْد الله بْنِ إِنْسَانَ ، قَالَ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ، وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا، فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي: وَادِيًا وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ , وَعِضَاهَهُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ" وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفَ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ لیلہ نامی جگہ سے آ رہے تھے، جب ہم لوگ بیری کے درخت کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود نامی پہاڑ کی ایک جانب اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وادی نخب کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور کچھ دیر کھڑے رہے، لوگ بھی سب کے سب وہیں رک گئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”وج - جو کہ طائف کی ایک وادی کا نام ہے - کا شکار اور ہر کانٹے دار درخت حرم میں داخل ہے، اور اسے شکار کرنا یا کاٹنا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لئے حرام ہے۔“ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف پہنچنے اور بنو ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1416]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف محمد
حدیث نمبر: 1417
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ يَوْمَئِذٍ:" أَوْجَبَ طَلْحَةُ" , حِينَ صَنَعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ، يَعْنِي: حِينَ بَرَكَ لَهُ طَلْحَةُ، فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِهِ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اس دن - جبکہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خدمت کی جو انہوں نے کی، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھک کر بیٹھ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کمر پر سوار ہوگئے - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”طلحہ نے اپنے لئے جنت کو واجب کر لیا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1417]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1418
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ امْرَأَةٌ تَسْعَى، حَتَّى إِذَا كَادَتْ أَنْ تُشْرِفَ عَلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرَاهُمْ، فَقَالَ:" الْمَرْأَةَ الْمَرْأَةَ" , قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَتَوَسَّمْتُ أَنَّهَا أُمِّي صَفِيَّةُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ أَسْعَى إِلَيْهَا، فَأَدْرَكْتُهَا قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَى الْقَتْلَى، قَالَ: فَلَدَمَتْ فِي صَدْرِي، وَكَانَتْ امْرَأَةً جَلْدَةً، قَالَتْ: إِلَيْكَ، لَا أَرْضَ لَكَ , قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزَمَ عَلَيْكِ , قَالَ: فَوَقَفَتْ، وَأَخْرَجَتْ ثَوْبَيْنِ مَعَهَا، فَقَالَتْ: هَذَانِ ثَوْبَانِ , جِئْتُ بِهِمَا لِأَخِي حَمْزَةَ، فَقَدْ بَلَغَنِي مَقْتَلُهُ، فَكَفِّنُوهُ فِيهِمَا , قَالَ: فَجِئْنَا بِالثَّوْبَيْنِ لِنُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ، فَإِذَا إِلَى جَنْبِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَتِيلٌ، قَدْ فُعِلَ بِهِ كَمَا فُعِلَ بِحَمْزَةَ، قَالَ: فَوَجَدْنَا غَضَاضَةً وَحَيَاءً أَنْ نُكَفِّنَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَالْأَنْصَارِيُّ لَا كَفَنَ لَهُ، فَقُلْنَا لِحَمْزَةَ ثَوْبٌ، وَلِلْأَنْصَارِيِّ ثَوْبٌ، فَقَدَرْنَاهُمَا فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَكْبَرَ مِنَ الْآخَرِ، فَأَقْرَعْنَا بَيْنَهُمَا، فَكَفَّنَّا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي الثَّوْبِ الَّذِي طَارَ لَهُ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن اختتام پر ایک عورت سامنے سے بڑی تیزی کے ساتھ آتی ہوئی دکھائی دی، قریب تھا کہ وہ شہداء کی لاشیں دیکھ لیتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چیز کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خاتون انہیں دیکھ سکے، اس لئے فرمایا کہ ”اس عورت کو روکو، اس عورت کو روکو۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ میری والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں، چنانچہ میں ان کی طرف دوڑتا ہوا گیا اور شہداء کی لاشوں تک ان کے پہنچنے سے قبل ہی میں نے انہیں جا لیا۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر میرے سینے پر دو ہتڑ مار کر مجھے پیچھے کو دھکیل دیا، وہ ایک مضبوط خاتون تھیں اور کہنے لگیں کہ پرے ہٹو، میں تم سے نہیں بولتی، میں نے عرض کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قسم دلائی ہے کہ ان لاشوں کو مت دیکھیں، یہ سنتے ہی وہ رک گئیں اور اپنے پاس موجود دو کپڑے نکال کر فرمایا: یہ دو کپڑے ہیں جو میں اپنے بھائی حمزہ کے لئے لائی ہوں، کیونکہ مجھے ان کی شہادت کی خبر مل چکی ہے، تم انہیں ان کپڑوں میں کفن دے دینا۔ جب ہم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ان دو کپڑوں میں کفن دینے لگے تو دیکھا کہ ان کے پہلو میں ایک انصاری شہید ہوئے پڑے ہیں، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا گیا تھا جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا، ہمیں اس بات پر شرم محسوس ہوئی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دے دیں اور اس انصاری کو کفن کا ایک کپڑا بھی میسر نہ ہو، اس لئے ہم نے یہ طے کیا کہ ایک کپڑے میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے میں اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو کفن دیں گے، اندازہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ ان دونوں حضرات میں سے ایک زیادہ لمبے قد کے تھے، ہم نے قرعہ اندازی کی اور جس کے نام جو کپڑا نکل آیا اسے اسی کپڑے میں کفن دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1418]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1419
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ، كَانَا يَسْتَقِيَانِ بِهَا كِلَاهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ! فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" , فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ سَعَةً لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ , قَالَ عُرْوَةُ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کا ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے - جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پانی کی اس نالی میں اختلاف رائے ہو گیا جس سے وہ دونوں اپنے اپنے کھیت کو سیراب کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا: ”زبیر! تم اپنے کھیت کو سیراب کر کے اپنے پڑوسی کے لئے پانی چھوڑ دو“، انصاری کو اس پر ناگواری ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں ناں اس لئے آپ یہ فیصلہ فرما رہے ہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ”اب تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور جب تک پانی منڈیر تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک پانی کو روکے رکھو۔“ گویا اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا، جبکہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں ان کے لئے اور انصاری کے لئے گنجائش اور وسعت کا پہلو تھا، لیکن جب انصاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صریح حکم کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: واللہ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آیت اسی واقعے سے متعلق نازل ہوئی ہے: « ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [النساء: 65] » ”آپ کے رب کی قسم! یہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے اختلافات میں آپ کو ثالث مقرر نہ کر لیں، پھر اس فیصلے کے متعلق اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے مکمل طور پر تسلیم نہ کریں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1419]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 2708، م : 2357
حدیث نمبر: 1420
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْبِلَادُ بِلَادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، فَحَيْثُمَا أَصَبْتَ خَيْرًا فَأَقِمْ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہر بھی اللہ کے ہیں اور بندے بھی اللہ کے ہیں، اس لئے جہاں تمہیں خیر دکھائی دے، وہیں پر قیام پذیر ہو جاؤ۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1420]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه ثلاثة مجاهيل، لكن الشطر الاول حسن لغيره
حدیث نمبر: 1421
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ: شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة آل عمران آية 18،" وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ يَا رَبِّ".
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میدان عرفات میں اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا: « ﴿شَهِدَ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [آل عمران: 18] » ”اللہ تعالیٰ اس بات پر گواہ ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اور فرشتے اور اہل علم بھی انصاف کو قائم رکھتے ہوئے اس بات پر گواہ ہیں، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ غالب حکمت والا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ”پروردگار! میں بھی اس بات پر گواہ ہوں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1421]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 1422
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ أُمِّهِ , وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ ، قَالَتَا: وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ , فَقَالَ: يَا أُمَّ عَطَاءٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَد نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ , قَالَ: فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِيَ لَنَا؟ فَقَالَ: أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ، فَشَأْنَكُنَّ بِهِ.
ام عطاء وغیرہ کہتی ہیں کہ واللہ! ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہم اب بھی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہے ہیں، جبکہ وہ ہمارے پاس اپنے ایک سفید خچر پر سوار ہو کر آئے تھے اور فرمایا تھا کہ اے ام عطاء! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ اپنی قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ کھائیں، میں نے کہا کہ میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اگر ہمیں ہدیہ کے طور پر کہیں سے قربانی کا گوشت آ جائے تو اس کا کیا کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہدیہ کے طور پر جو چیز آ جائے اس میں تمہیں اختیار ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1422]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن عطاء ضعيف، لكن النهي عن أكل لحوم النسك فوق ثلاث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1423
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ مَعَ النِّسَاءِ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَلَمَّا رَجَعَ , قُلْتُ: يَا أَبَةِ، رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ , قَالَ: وَهَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِيَنِي بِخَبَرِهِمْ؟" , فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا رَجَعْتُ، جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ , فَقَالَ:" فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ اطم حسان نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات موجود تھیں، (کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے) تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا تھا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے۔ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان! واللہ! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ گھوم رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے! کیا واقعی تم نے مجھے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بنو قریظہ کے پاس جا کر ان کی خبر میرے پاس کون لائے گا؟“ میں چلا گیا اور جب واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1423]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3720، م : 2416
حدیث نمبر: 1424
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُقْبَةَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ , يَقُولُ: لَمَّا افْتَتَحْنَا مِصْرَ بِغَيْرِ عَهْدٍ , قَامَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ، اقْسِمْهَا , فَقَالَ عَمْرٌو: لَا أَقْسِمُهَا، فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَتَقْسِمَنَّهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ , قَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُهَا حَتَّى أَكْتُبَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ , فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: أَنْ أَقِرَّهَا حَتَّى يَغْزُوَ مِنْهَا حَبَلُ الْحَبَلَةِ".
سفیان بن وہب خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے ملک مصر کو بزور شمشیر فتح کر لیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے - جو فاتح مصر اور لشکر اسلام کے سپہ سالار تھے - کہا کہ اے عمرو بن العاص! اسے تقسیم کر دیجئے، انہوں نے کہا کہ میں تو اسے ابھی تقسیم نہیں کروں گا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ آپ کو یہ اسی طرح تقسیم کرنا پڑے گا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم فرمایا تھا، انہوں نے کہا کہ امیر المومنین سے خط و کتابت کرنے سے قبل میں اسے تقسیم نہیں کر سکتا، چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس نوعیت کا ایک عریضہ لکھ بھیجا، وہاں سے جواب آیا کہ ابھی اسے برقرار رکھو (جوں کا توں رہنے دو) یہاں تک کہ اگلی نسل جنگ میں شریک ہو جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1424]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المبهم الذى لم يسم