صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ» :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے سردار کو لینے کے لیے اٹھو۔
حدیث نمبر: 6262
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَجَاءَ فَقَالَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ، أَوْ قَالَ خَيْرِكُمْ"، فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، فَقَالَ:" لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْمَلِكُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مِنْ قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى حُكْمِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لیے اٹھو۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر (قلعہ سے) اتر آئے ہیں (اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو)۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا۔ ابوعبداللہ (مصنف) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك.» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6262]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار یا اپنی بہتر شخصیت کو لینے کے لیے اٹھو۔“ بہرحال وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ (بنو قریظہ کے یہودی) تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر قلعے سے اتر آئے ہیں۔“ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جو جنگجو ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”میرے بعض ساتھیوں نے ابوالولید کے واسطے سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے «إِلٰی حُكْمِكَ» تک بیان کیا ہے یعنی شروع سے لے کر «إِلٰی حُكْمِكَ» تک روایت نقل کی ہے، بعد والا حصہ نہیں کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة