مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4478
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ، ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ، فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ ثُمَّ يُنَادِي، أَنْ" صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ، وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ، فِي السَّفَرِ".
نافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وادی ضجنان میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نماز کا اعلان کروایا، پھر یہ منادی کر دی کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دوران سفر سردی کی راتوں میں یا بارش والی راتوں میں نماز کا اعلان کر کے یہ منادی کر دیتے تھے کہ اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4478]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4479
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ اتَّخَذَ أَوْ قَالَ: اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ، وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ"، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: وَكَلْبَ حَرْثٍ؟ فَقَالَ: إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَرْثاً.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ایسا کتا رکھے جو حفاظت کے لئے بھی نہ ہو اور نہ ہی شکاری کتا ہو تو اس کے ثواب میں روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی“ ان سے کسی نے عرض کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو کھیت کی حفاظت کرنے والے کتے کا بھی ذکر کرتے ہیں؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا کھیت ہے، (اس لئے وہ اس استثناء کو خوب اچھی طرح یاد رکھ سکتے ہیں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4479]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4480
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَظَهْرُهُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، فَتُصَدّ عَنِ الْبَيْتِ، فَلَوْ أَقَمْتَ؟ فَقَالَ: قَدْ" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَإِنْ يُحَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، أَفْعَلْ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، قَالَ: إِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَرَى أَمْرَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، ثُمَّ قَدِمَ، فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے صاحبزادے عبداللہ آئے اور کہنے لگے کہ مجھے اندیشہ ہے اس سال لوگوں کے درمیان قتل و قتال ہو گا اور آپ کو حرم شریف پہنچنے سے روک دیا جائے گا، اگر آپ اس سال ٹھہر جاتے اور حج کے لئے نہ جاتے تو بہتر ہوتا؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے اور کفار قریش ان کے اور حرم شریف کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اس لئے اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور فرمایا کہ میں عمرہ کی نیت کر چکا ہوں۔ اس کے بعد وہ روانہ ہو گئے، چلتے چلتے جب مقام بیداء پر پہنچے تو فرمانے لگے کہ حج اور عمرہ دونوں کا معاملہ ایک ہی جیسا تو ہے، میں تمہیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی بھی نیت کر لی ہے چنانچہ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور دونوں کی طرف سے ایک ہی طواف کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4480]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1639، م: 1230
حدیث نمبر: 4481
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں مردوں اور عورتوں کو اکٹھے ایک ہی برتن سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4481]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4482
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟ أَوْ قَالَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ؟ فَقَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ!! محرم کون سا لباس پہن سکتا ہے؟ یا یہ پوچھا کہ محرم کون سا لباس ترک کر دے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیض، شلوار، عمامہ اور موزے نہیں پہن سکتا الاّ یہ کہ اسے جوتے نہ ملیں، جس شخص کو جوتے نہ ملیں اسے چاہئے کہ وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے، اسی طرح ٹوپی یا ایسا کپڑا جس پر ورس نامی گھاس یا زعفران لگی ہوئی ہو، وہ بھی محرم نہیں پہن سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4482]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5794
حدیث نمبر: 4483
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَاشُورَاءَ:" صَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِكَ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَصُومُهُ، إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ عَلَى صَوْمِهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما عاشورہ کے روزے کے متعلق فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا ہے اور دوسروں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے، جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو یہ روزہ متروک ہو گیا، خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس دن کا روزہ نہیں رکھتے تھے الاّ یہ کہ وہ ان کے معمول کے روزے پر آ جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4483]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1892، م: 1126
حدیث نمبر: 4484
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ"، قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ:" أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: اخْتَرْ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ جدا نہ ہو جائیں، یا یہ کہ وہ بیع خیار ہو۔“ نافع کبھی یوں بھی کہتے تھے یا یہ کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ اختیار کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4484]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2107، م: 1531
حدیث نمبر: 4485
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا، وَمَاشِيًا، يَعْنِي: مَسْجِدَ قُبَاءَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل بھی آتے تھے اور سوار ہو کر بھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4485]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1191، م: 1399
حدیث نمبر: 4486
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ، عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ"، قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍِ بُرٍّ. قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ التَّمْرُ فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکر و مؤنث اور آزاد غلام سب پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ نصف صاع گندم پر آ گئے، نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر میں کھجور دیا کرتے تھے، اس معمول میں صرف ایک مرتبہ فرق پڑا تھا جبکہ کھجوروں کی قلت ہو گئی تھی اور اس سال انہوں نے جَو دئیے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4486]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1511، م: 984
حدیث نمبر: 4487
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَال:" سَبَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْخَيْلِ، فَأَرْسَلَ مَا ضُمِّرَ مِنْهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ أَوْ الحَيْفَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَرْسَلَ مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ فَارِسًا يَوْمَئِذٍ، فَسَبَقْتُ النَّاسَ، طَفَّفَ بِيَ الْفَرَسُ مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ کروایا، ان میں سے جو گھوڑے چھریرے تھے انہیں ”حفیاء“ سے ثنیۃ الوداع تک مسابقت کے لئے مقرر فرمایا اور جو چھریرے بدن کے نہ تھے ان کی ریس ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کروائی، میں اس وقت گھڑ سواری کرنے لگا تھا اور میں اس مقابلے میں جیت گیا تھا، مجھے میرے گھوڑے نے مسجد بنی زریق کے قریب کر دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4487]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2869، م: 1370