صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ السَّرِيرِ:
باب: چارپائی یا تخت کا بیان۔
حدیث نمبر: 6276
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَسْطَ السَّرِيرِ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ تَكُونُ لِي الْحَاجَةُ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَقُومَ فَأَسْتَقْبِلَهُ، فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے وسط میں نماز پڑھتے تھے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان لیٹی رہتی تھی مجھے کوئی ضرورت ہوتی لیکن مجھ کو کھڑے ہو کر آپ کے سامنے آنا برا معلوم ہوتا۔ البتہ آپ کی طرف رخ کر کے میں آہستہ سے کھسک جاتی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6276]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چارپائی یا تخت کے درمیان میں نماز پڑھتے تھے جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو میں یہ پسند نہ کرتی کہ میں کھڑی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آؤں، اس لیے میں آہستہ سے سرک جاتی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6276]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة